احکام وراثت

وراثت کی شرعی تقسیم نہ کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
74448
| تاریخ :
2024-07-09
معاملات / ترکات / احکام وراثت

وراثت کی شرعی تقسیم نہ کرنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللّٰہ و برکاتہ! جناب مفتی صاحب! میں مندرجہ ذیل وراثت کی تقسیم کے معاملے میں دینِ اسلام کی روشنی میں آپ سے رہنمائی کا ملتمس ہوں۔ میرے والد اور والدہ کی دو اولادیں تھیں، یعنی ایک بیٹا اور ایک بیٹی، یعنی میں اور میری بہن۔ میری والدہ کا بیماری کیوجہ سے رضائے الٰہی سے 1989 میں انتقال ہو گیا تھا۔اس وقت میری والدہ کے جو کہ اسکول ٹیچر تھیں، ذاتی زیورات اور ترکہ، یعنی کچھ اور مال و اسباب بھی تھے۔ میری والدہ کے انتقال کے وقت میرے والد بھی حیات تھے اور میری اور میری بہن کی عمر بتدریج 20 سال اور 19 سال تھی۔ میرے والد نہایت سیدھے سادے اور درویش صفت شخص تھے اور انہوں نے اپنی شریکِ حیات اور ميری والدہ کے انتقال کے بعد کبھی بھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ میری والدہ نے وراثت میں کیا چھوڑا ہے، اور وہ اپنی اولاد کی ضروریات پوری کرنے میں مشقّت میں ہی لگے رہے اور عقدِ ثانی بھی نہیں کیا، جبکہ میری والدہ کے انتقال کے وقت ان کی عمر تقریباً 50-52 سال کے آس پاس ہوگی۔ ہم اس وقت مشترکہ خاندانی نظام میں اپنی خالاؤں کے ساتھ رہ رہے تھے، جسکی وجہ سے تمام گھریلو معاملات خواتین کے ہی سپرد تھے۔ ہماری خالاؤں نے ہماری والدہ کے انتقال کے بعد ہمیں کبھی ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی اور جی جان سے ہمیں پروان چڑھایا۔ 1996 میں میری بہن کی شادی ہوگئی، اس وقت اسکی عمر 25 سال اور میری عمر 26 سال تھی۔اور اس میں میرے والد اور خالاؤں نے کسی طرح کی کوئی کسر نہیں چھوڑی، بلکہ تمام تر چیزیں جو اپنی بساط سے بڑھ کر دی جا سکتی تھیں وہ دیں، وقت گزرتا رہا اور بزرگ اس دنیا فانی سے پردہ فرماتے رہے۔ 2020 میں میرے والد بھی طویل علالت کے باعث اس دارِفانی سے رخصت ہو گئے ۔میری بہن کو اس کی مسلسل درخواست پر شادی کے بعد بھی میرے والد نے 400 گز کاایک عدد پلاٹ دے دیا جو کہ میرے والد اور والدہ نے ماضی میں میرے لئے اور اپنی ضرورت کے لئے رکھا تھا۔ اس معاملہ پر میرے والد نے میری رضامندی چاہی اور میں والد کے ایماء اور بہن کی محبت میں اس سے دستبردار ہو گیا۔ مگر اُس وقت تک مجھے بالکل اس بات کا ادراک نہیں تھا کہ میرے ساتھ والدہ کی وراثت کی تقسیم میں پہلے ہی ذیادتی ہو چکی ہے ۔ میرے والد نے ترکہ میں کچھ رقم چھوڑی جو کہ میں نے شرعی احکام اور اصولوں کے تحت اپنی بہن کو ⅓ حصہ ادا کر دیا۔ پہلے تو میں نے سوچا کہ اپنی حق تلفی کے ازالہ میں اس کی ادائیگی میں تاخیر کروں، پھر خیال آیا کہ میں اپنے سر گناہ اور وبال کیوں پالوں جوکہ آخرت میں مجھے اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ اور اپنے مرحومین کے سامنے ذلّت ،رسوائی اور گناہ کا مؤجب ہو۔ میں نے کبھی بھی اپنے والد یا والدہ کے ترکہ اور وراثت کے بارے میں ان کی زندگی میں اور یہاں تک کہ ان کی وفات کے بعد بھی جاننے یا ٹوہ لینے کی کوشش نہیں کی۔ والدہ کی وفات کے بعد ان کے ترکہ اور زیورات سے جو مجھے میری شادی کے موقع پر 2019 میں ملا، اسے صحیح سمجھ کر صبر اور شکر سے لے لیا۔ اس وقت میری عمر 30 سال تھی۔ والد کے انتقال کے بعد ان کا ایک اکاؤنٹ تھا جس کے معاملات اور چیک بُک بھی میں نے اپنی بہن کے حوالے کر دیئے تاکہ میں مالی امور سے دور رہوں ، کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ مجھے کسی قسم کی الزام تراشی کا سامنا کرنا پڑے۔ اس معاملے کو میں نے والد کی وفات کے بعد لیا اور سکسیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد شرعی اصولوں کے تحت ⅔ حصہ لیا اور اپنی بہن کو بھی اس کا ⅓ شرعی حصہ ادا کر دیا۔ یہاں میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرے والد تمام زندگی میرے ساتھ رہے اور اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کے فیض سے مجھے نوازا اور مجھے ان کی برکات سے استطاعت دی کہ میں ان کی ممکنہ ضروریات کا سامان مہیا کر سکوں۔ یہ بھی اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ کا کرم اور شُکر ہے کہ مجھے ان کی خدمات اور ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خود اپنے والد یا کسی اور کے سامنے کبھی ہاتھ نہیں پھیلانا پڑا، اور یہ سارے معاملات میں نے آسانی کے ساتھ ممکنہ طور پر خوش اسلوبی سے نبھائے، ان تمام معاملات کی ادائیگی محض اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ کے خصوصی کرم اور میرے والدین اور بزرگوں کی دعاؤں کا نتیجہ ہےاور یقیناً میرا اس میں کوئی کمال نہیں ہے۔ مگر والدین کے حقوق تو اتنے ہیں کہ باوجود کوشش کہ آپ صحیح حق ادا کرنے سے قاصر ہی رہتے ہیں ۔ ابھی کچھ وقت پہلے مجھے یہ علم ہوا کہ میری والدہ کی وفات کے بعد ان کی وراثت کی تقسیم میں شرعی اصولوں کی پاسداری نہیں کی گئی ہے، بلکہ میری بہن اور دیگر لوگوں نے دانستہ طور پر مجھے بہت کم حصہ دیا ہے، جبکہ میری بہن کو اس کے شرعی حق سے زیادہ نوازا گیا، کیونکہ یہ بات میرے والد کے علم میں بھی نہیں تھی، اس لیے وہ بھی اپنی حیات میں اس سے نا آشنا رہے۔ مجھے اس بات کا شدید رنج و قلق ہے کہ میرے سگے رشتے داروں اور سگی بہن نے میری سادگی اور شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور مجھے میرے شرعی حق سے محروم کیا۔ میں اس پورے معاملے کے سلسلے میں دینِ اسلام کی روشنی میں آپ کی رہنمائی چاہتا ہوں اور یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ :اگر کسی شخص (مرد یا عورت) کا شرعی وراثت کا حق قصداً غصب کیا جائے تو اس کے غاصب کرنے والے کے لیے کیا حُکم ہے؟ اگر کسی شخص (مرد یا عورت) کے پاس کم علمی کی وجہ سے وراثت کا زیادہ حصہ آجائے اور بعد ازاں اس کو علم ہوجائے کے دوسرے شخص (مرد یا عورت) کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور جس شخص(مرد یا عورت) نے وراثت کا مال شرعی تقاضوں سے زیادہ لے لیا ہو اور وہ مالی طور پر مستحکم بھی ہو کہ وہ باآسانی وراثت کے حقدار شخص (مرد یا عورت)کو ادائیگی کرنے پر قادر بھی ہو تو ایسے معاملے میں کیا حُکم ہے؟ اگر کسی شخص (مرد یا عورت) نے کوئی منقولہ یا غیر منقولہ املاک و اسباب کو ناجائز طور پر کاغذات میں ردوبدل کر کے وراثت اور حقوق جائز ورثاء کے بجائے اپنے نام کر لئے ہوں، ان کےلئے کیا وعید ہے؟ جس شخص کے ساتھ دانستہ طور وراثت کی تقسیم میں زیادتی کی گئی ہو، اس کے لیے کیا ہدایات یا حُکم ہے؟ اگر کوئی شخص (مرد یا عورت) جو وفات پا گیا ہو، اُس کی وراثت کا شرعی حق مکمل یا جزوی طور پر غصب کیا گیا ہو تو غاصب کے لیے کیا وعید ہے؟ کسی کے انتقال کے بعد ورثاء بیٹا، بیٹی اور دیگر احباب کا یہ سمجھ لینا کہ ان کی دانست اور نظر میں وراثت کی تقسیم میں ان کا وضع کردہ فیصلہ درست اور صحیح ہوگا اور دینِ اسلام اور قرآنِ پاک کے احکامات کو نظر انداز کرنا، کیا صحیح ہے یا غلط ہے اور اس کی خِلاف ورزی کرنے والوں کے لیے دین میں کیا حُکم ہے ؟ جس شخص (مرد یا عورت) جس کے ساتھ وراثت کے تقسیم میں دانستہ طور میں زیادتی کی گئی ہے، کیا اس کو اختیار ہے کہ وہ جس کو چاہے معاف کر دے؟ اگر کوئی شخص (مرد یا عورت) جو ناجائز طور پر وراثت ( منقولہ یا غیر منقولہ اسباب و جائیداد) پر مکمل یا جزوی طور پر قبضہ جما کر بیٹھے ہوئے ہیں اور اس بات سے بخوبی آشنا ہیں کہ انہوں نے ناجائز طریقے سے اصل ورثاء کی حق تلفی کی ہے، مگر وہ اپنی ایماء پر جائز حقداروں کو ان کا حق دینے سے انکاری ہیں، ان کے لئے اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی کیا وعید آئی ہے؟ مزید برآں یہ بھی رہنمائی کیجیئے کہ جس شخص ( مرد یا عورت) جن کے ساتھ وراثت کی تقسیم میں زیادتی ہوئی ہے، وہ اپنے حق کے لیے مناسب، قانونی اور شرعی تقاضوں کو مدّ نظر رکھ کر اپنے حقوق کے حصول کے لیے کوشش کریں یا نہ کریں ؟ اُمید ہے کہ آپ مندرجہ بالا مسئلے میں بیان کردہ معاملات کا اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ کے احکامات اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں جائزہ لے کر آگاہی فراہم کریں گے۔ مجھے اس بات کا بھی اندازہ ہے کہ اس مسئلے میں کافی سوالات پوچھے گئے ہیں، مگر یہ پورا ڈرافٹ اور سوالات اس لئے تفصیلی طور پر کئے گئے ہیں، تاکہ میرے ساتھ ساتھ دوسرے سائل جو اس سے مماثل معاملات سے نبردآزما ہوں، ان کو بھی اس سے افادہ ہو۔ آپ کے تعاون اور جواب کے لئے بہت مشکور ہوں گا۔ جزاک اللّٰہ خیرا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں مختلف مقامات پر دوسروں کے مال کو ناحق کھانے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ میت کے انتقال کے بعد اس کےکفن دفن کے اخراجات، اس کے ذمے قرض کی ادائیگی اوراگر وصیت کی ہو تو بقیہ مال کےایک تہائی حصےمیں وصیت کے نفاذ کے بعد بچنے والا مال اس کے ورثاء میں ان کے حصۂ شرعی کے مطابق تقسیم کرنا لازم و ضروری ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں میراث کے احکام اور ورثاء کے حصوں کی تفصیل نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کی ہے، چنانچہ میراث کوانہی حصوں کے مطابق تقسیم کرنا فرض ہے۔ اگر کوئی وارث تمام میراث پر قبضہ کرکےکسی وارث کو اس کے شرعی حصہ سے محروم کردے یا ان کو مقررہ حصہ سے کم دے کر اپنے حق سے زیادہ لےیا میراث کو جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں سے ہٹ کر غیر شرعی طور پر تقسیم کرے تو اس کا یہ عمل ناجائز اور سخت گناہ ہے۔ جس پر قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں نازل ہوئی ہیں۔چنانچہ احکامِ میراث بیان کرنے کے بعد اللہ تعالی ٰنے میراث کو اس کے اصولوں کے مطابق تقسیم کرنے والوں کو خوشخبری اور اس کے خلاف تقسیم کرنے والوں کو وعید بیان کرتے ہوئے فرمایا۔
(تلک حدود اللہ و من یطع اللہ و رسولہ یدخلہ جنات تجری من تحتھا الأنھار خالدین فیھا و ذالک الفوز العظیم(13) و من یعص اللہ و رسولہ و یتعد حدودہ یدخلہ نارا خالدا فیھا و لہ عذاب مھین(14)سورۃ النساء)۔
ترجمہ:”یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود ہیں،اور جو شخص اللہ ٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، وہ اس کو ایسے باغات میں داخل کرے گا، جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، ایسے لوگ ہمیشہ ان باغات میں رہیں گےاور یہ زبردست کامیابی ہےاور جوشخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدود سے تجاوز کرے گا،اللہ اسے دوزخ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کو ایسا عذاب ہوگا جو ذلیل کرکے رکھ دے گا“۔
دوسری جگہ میراث کے مال کو ناحق کھانے والوں کی مذمت کے طور پر ارشاد فرمایا: (و تأکلون التراث أکلا لما) (الفجر:19)۔
ترجمہ:”اور میراث کا مال سمیٹ سمیٹ کر کھا جاتے ہو“۔
دوسروں کے مال کو ناحق کھانے سے منع کرتے ہوئے فرمایا :(یأیھا الذین آمنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل الآیۃ۔ النساء 29)۔
ترجمہ:”اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ“
احادیثِ مبارکہ میں بھی دوسروں کے مال کو ناحق کھانے والوں کے متعلق کئی وعیدیں وارد ہوئی ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔
1۔ فی سنن ابن ماجۃ: حدثنا سوید بن سعید: قال حدثنا عبد الرحیم بن زید العمؔیؔ عن أبیہ، عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: ( من فرؔ من میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ )۔ الحدیث۔ (باب الحیف فی الوصیۃ، رقم 2703، ص 549، ط: البشریٰ)۔
ترجمہ:۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ”جس شخص نے اپنے وارث کو میراث سے محروم کیا تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کو اس کی جنت کے حصے سے محروم کردیں گے“۔
2۔ و فی مشکاۃ المصابیح: عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: (من أخذ شبراً من الأرض ظلما؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضین)۔ الحدیث۔ (کتاب البیوع، باب الغصب و العاریۃ، ج 1، ص 254، ط: قدیمی)۔
ترجمہ:۔حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ”جس شخص نے کسی کی ظلماً ایک بالشت جگہ بھی لی اس کو قیامت کے دن سات زمینوں سے اس کا طوق پہنایا جائے گا“۔
قرآن و حدیث کی ان مذکورہ بالا وعیدوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ میراث کے مال کی غیر شرعی تقسیم کرنے والا ناجائز امر کا مرتکب ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر کسی وارث نے مالِ میراث میں سے جان بوجھ کر زیادہ حصہ لیا ہو یا لا علمی کی وجہ سے اس کے پاس زیادہ حصہ آجائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ زائد حصہ حق داروں کو واپس کرےبصورتِ دیگر آخرت میں اس پر مؤاخذہ ہوگا۔اور اگر کوئی وارث جس کو حصۂ میراث سے محروم کردیا گیا ہویا اسے شرعی حصہ سے کم دیا گیا ہو اور اگر وہ اپنا حق وصول کرنا چاہے تو اسے اپنے حق کے حصول کےلئے مکمل کوشش کرنے کا شرعاً و قانوناً اختیار حاصل ہے۔ لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں اگر واقعۃً سائل کو اس کے حصۂ شرعی سے کم دیا گیا ہو جس کا وہ حق دار تھا تو وہ اپنے اس حق کے حصول کےلئے بلاشبہ قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتا ہے اور سائل کی بہن کو بھی چاہیئے کہ اس نے اپنے حصۂ شرعی سے جو زائد لیا ہو وہ بھائی کو واپس کردے، تاکہ مؤاخذۂ اخروی سے سبکدوشی ممکن ہوسکے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی القرآن المجید:(تلک حدود اللہ و من یطع اللہ و رسولہ یدخلہ جنات تجری من تحتھا الأنھار خالدین فیھا و ذالک الفوز العظیم و من یعص اللہ و رسولہ و یتعد حدودہ یدخلہ نارا خالدا فیھا و لہ عذاب مھین) الآیۃ۔ (سورۃ النساء، آیت نمبر: 13۔14)۔
و فیہ أیضاً: :(و تأکلون التراث أکلا لمؔا) الآیۃ۔ (سورۃ الفجر، آیت نمبر:19)
و فیہ أیضاً: (یوصیکم اللہ فی أولادکم للذکر مثل حظ الأنثیین فإن کن نسآء فوق اثنتین فلھن ثلثا ما ترک)۔ الآیۃ (سورۃ النساء، آیت نمبر 11)۔
و فی أحکام القرآن للجصاص: و أنزل اللہ تعالیٰ قولہ ( یوصیکم اللہ فی أولادکم للذکر مثل حظ الأنثیین ) (إلی قولہ) و قولہ تعالیٰ (یوصیکم اللہ فی أولادکم) فیہ بیان للنصیب المفروض فی قولہ تعالیٰ (للرجال نصیب) إلی قولہ تعالیٰ (نصیبا مفروضا) و النصیب المفروض ھو الذی بین مقدارہ فی قولہ تعالیٰ (یوصیکم اللہ فی أولادکم) (إلی قولہ) و قال مجاھد کان المیراث للولد و کانت الوصیۃ للوالدین و الأقربین فنسخ اللہ تعالیٰ من ذالک ما أحب فجعل للولد الذکر مثل حظ الأنثیین (إلی قولہ) و قولہ تعالی (للذکر مثل حظ الأنثیین) قد أفاد أنہ إن کان ذکرا و أنثی فللذکر سھمان و للأنثی سھم و أفاد أیضا أنھم إذا کانوا جماعۃ ذکورا و إناثا إن لکل ذکر سھمین و لکل أنثی سھم و أفاد أیضا أنہ إذا کان مع الأولاد ذوو سھام نحو الأبوین و الزوج و الزوجۃ أنھم متی أخذوا سھامھم کان الباقی بعد السھام بین الأولاد للذکر مثل حظ الأنثیین إلخ۔ ( باب الفرائض،ج 2، ص 79۔80، ط: سہیل اکیڈمی)۔
و فی سنن ابن ماجۃ: حدثنا سوید بن سعید: قال حدثنا عبد الرحیم بن زید العمؔیؔ عن أبیہ، عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: (من فرؔ من میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ)۔ الحدیث۔ (باب الحیف فی الوصیۃ، رقم: 2703، ص 549، ط: البشرٰی)۔
و فی مشکاۃ المصابیح: عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: (من أخذ شبراً من الأرض ظلما؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضین)۔ الحدیث۔ (کتاب البیوع، باب الغصب و العاریۃ، ج 1، ص 254، ط: قدیمی)۔
و فی الأشباہ و النظائر: لو قال الوارث: ترکت حقی لم یبطل حقہ؛ إذ الملک لا یبطل بالترک إلخ۔ (ما یقبل الإسقاط من الحقوق و ما لا یقبلہ، ص 309، ط:قدیمی)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 74448کی تصدیق کریں
0     20
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =بیوہ, 2 بھائی 1 بہن)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات