کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندر جہ ذیل مسئلہ میں کہ ہمارے والد مرحوم سراج محمد کا انتقال ہو گیا ہے ، بوقتِ انتقال ان کے ورثاء میں ایک بیوہ، پانچ بیٹے اور چھ بیٹیاں موجود ہیں ، معلوم یہ کرنا ہے کہ والد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق مذکور ورثاء میں کس طرح تقسیم کیا جائے گا ؟ دادا ، دادی کا پہلے انتقال ہو گیا تھا ۔
سائل کے مرحوم والد کا ترکہ اس کے موجودہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعددیکھیں کہ اگر اس کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل ایک سواٹھائیس (128) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو سولہ ( 16) حصے ، ہربیٹے کو چودہ (14) حصےجبکہ ہر ایک بیٹی کو سات (7) حصے دیے جائیں -
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0