السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
عبدالشیخ نامی شخص کی تین بیویاں تھیں،دو بیویوں سے ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ عبدالشیخ کی زندگی میں تینوں بیویوں اور ان کی بیٹی کا انتقال ہو گیا، لیکن جب عبدالشیخ کا انتقال ہوا تو ان کے تین بیٹے زندہ تھے۔
سوال یہ ہے کہ عبدالشیخ کی وفات کے بعد کیا ان کی وفات شدہ بیٹی کے بچوں کو عبدالشیخ کی زمین اور جائیداد میں کوئی حصہ ملے گا؟ برائے مہربانی جلد جواب دیں،اللہ آپ کو اجر دے گا۔
واضح ہو کہ جس بیٹے بیٹی کا انتقال والدین کی زندگی میں ہو جائے ان کی اولاد کا اپنے داد،دادی،یا نانا،نانی کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوتا , لہذا صورتِ مسؤلہ میں عبد الشیخ کی زندگی میں جس بیٹی کا انتقال ہوگیا تھا اس بیٹی کی اولاد کا عبدالشیخ کےدیگر ورثاء سےان کے ترکہ میں حصہ کا مطالبہ کر نا درست نہیں ، البتہ دیگر ورثاء اپنی مرضی و خوشی سے اپنے شرعی حصوں میں سےانہیں کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے اوریہ باعثِ اجر و ثواب بھی ہے ، مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں۔
کما فی رد المحتار : وشروطہ : ثلاثۃ : موت مورث حقیقیۃ ، او حکما کمفقود او تقدیراً کجنین فیہ غیرہ ووجود وارثہ عند موتہ حیا حقیقۃ او تقدیراً الخ ( کتاب الفرائض ، ج 6 ، ص 758 ، ط : سعید )۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2