جناب محترم السلام علیکم!
میری والدہ جنہوں نے مجھے میری پیدائش کے فوراً بعد ننھیال میں چھوڑدیا تھا،مگر ننھیال نے مجھے بخوشی قبول نہیں کیا،مگر پھر بھی رکھ لیا ،کفالت کی ،مگر ذمہ داری قبول نہیں کی،کبھی علاج معالجہ کروانے کی زحمت نہیں کی،والدین نے بھی حسبِ معمول کوئی توجہ نہ کی،جس وجہ سے میرے گردے صحیح طور پر کام نہیں کرتے،میرے دو چھوٹے بھائی بھی ہیں،جن کی میرے والدین نے بہترین کفالت کی،ایک بھائی کا پیدائش کے فوراً بعد ہرنیا کا آپریشن کروایا گیا،جبکہ میرا مرض بھی پیدائشی تھا،وقت گزرتا گیا،ننھیال میں سب کا رویہ بھی بگڑتا گیا،میرے ہر آنے والے رشتے کو انکار کیا جانے لگا کہ خرچ کون کرے،ماں باپ ذمہ داری لیں،انہیں سمجھانے کے بجائے مجھے تنگ کرنے لگا،میں نے اپنی والدہ سے کئی بار شکایت کی،کچھ غیر اخلاقی حرکات کا بھی بتایا،لیکن انہوں نے ساتھ لے جانے سے صاف انکار کیا،بلکہ میری کردار کشی شروع کردی،والد کو شروع سے دور اور بے خبر رکھا،اور مجھے ان سے ڈراکر آخر کارننھیال سے نکال دیا گیا،اور مجھے والدین کے گھر چھڑوادیا گیا،مگر والدہ نے قبول نہیں کیا،مجھے نامناسب طریقہ سے پیسے کمانے کا کہتی رہیں،اور پھر لڑجھگڑ کر گھر سے نکال دیا،میں دو سال اپنی دوست کے گھر رہی،27 سال کی عمر میں میری شادی کی ذمہ داری اور اخراجات بھی دوست کے گھر والوں نے ہی ادا کیے،والد کے انتقال کے بعد والدہ نے وراثتی حق سے بھی محروم کردیا،سب کچھ غیر قانونی بیچ دیا،اور سوال کرنے پر مجھے اور میرے شوہر کو بدنام کردیا،socially out cast کردیا ،اس پسِ منظر اور صورتِ حال کے پیشِ نظر کیا میں اپنی والدہ پر مقدمہ کرسکتی ہوں،ہیومن رائٹس کی مدد لے سکتی ہوں،آپ کی راہنمائی کی منتظر ایک مفلس اور کمزور بیٹی جسے امتِ محمدیہ ہونے کے ناطے زندہ دفنایا نہیں گیا،بس بیٹی ہونے کی سزادی گئی۔والسلام
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو ، اس میں کسی قسم کی دھوکہ دہی اورالزام تراشی سے کام نہ لیا گیا ہو تو سائلہ کے والدین اور ننھیال کا مذکور طرزِ عمل درست نہیں تھا،جس پر انہیں توبہ واستغفار اور سائلہ سے معافی مانگنی چاہیے ،جبکہ سائلہ کے والد کے انتقال کے بعد سائلہ کی والدہ کا اپنے شوہر کی جائیداد کو بیچ کر سائلہ کو اپنے شرعی حصے سے محروم کردینا شرعاً جائز نہیں، بلکہ غصب اور ظلم پر مبنی عمل ہونے کی وجہ سے والدہ سخت گناہ گار ہوئی ہے،اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ اور غلط رویہ پر بصدقِ دل توبہ واستغفار کرتے ہوئے اپنی بیٹی کو اس کا شرعی حصہ دیکر مواخذہ اخروی سے سبکدوشی کی فکر کرے،بصورت دیگر سائلہ اپنے حق کی وصولیابی کی خاطر قانونی چارہ جوئی کی بھی مجاز ہوگی۔
قال اللہ تعالی: {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (176)} [النساء: 176]۔
وفی أحكام القرآن للجصاص: وقوله تعالى للذكر مثل حظ الأنثيين قد أفاد أنه إن كان ذكرا وأنثى فللذكر سهمان وللأنثى سهم وأفاد أيضا أنهم إذا كانوا جماعة ذكورا وإناثا أن لكل ذكر سهمان ولكل أنثى سهما وأفاد أيضا أنه إذا كان مع الأولاد ذو وسهام نحو الأبوين والزوج والزوجة أنهم متى أخذوا سهامهم كان الباقي بعد السهام بين الأولاد للذكر مثل حظ الأنثيين وذلك لأن قوله تعالى للذكر مثل حظ الأنثيين اسم للجنس يشتمل على القليل والكثير منهم فمتى ما أخذ ذوو السهام سهامهم كان الباقي بينهم على ما كانوا يستحقونه لو لم يكن ذو سهم الخ (ج3 ص8/9 سورۃ النساء،آیت176 ط: دارإحیاء التراث العربی،بیروت)۔
وفی صحيح البخاري: عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الظلم ظلمات يوم القيامة»(ج3 ص129 باب الظلم ظلمات یوم القیامۃ ط: دار طوق النجاۃ)۔
وفی عمدة القاري شرح صحيح البخاري: قوله: (ولا يظلمه) ، نفي بمعنى الأمر وهو من باب التأكيد، لأن ظلم المسلم للمسلم حرام.(ج12 ص289 باب أعن أخاک ظالما أو مظلوما ط: دار إحیاء التراث العربی،بیروت)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2