السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، انتہائی قابلِ احترام جناب مفتی صاحب! میں مسمی کمال خان ولد فضل رزاق (مرحوم) ساکن: مکان نمبر 281 بلاک 8، تانگہ اسٹینڈ، شیر شاہ ، کراچی کا رہائشی ہوں اور درخواست ہذا کے توسط سے آپ کی توجہ اس خاص امر کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں اور اپنے مسئلے سے متعلق شریعتِ مطہرہ کے مطابق جواب کی توقع رکھتا ہوں۔
جناب والا! جائیداد مکان 281 بلاک 8، تانگہ اسٹینڈ ، شیر شاہ، کراچی کل رقبہ 50 مربع گز، جوکہ میرے والد مرحوم کی چھوڑی ہوئی جائیداد ہے اور مجھ سمیت ہم 3 بیٹے اور 2 بیٹیاں اور ہماری والدہ جو حیات ہیں، جبکہ ایک بہن کا انتقال والد سے پہلے ہو گیا تھا، اب ہم پانچ بہن بھائی اور والدہ جبکہ والدہ میرے ساتھ رہائش پذیر ہے، جائیداد کو سب کی رضامندی سے فروخت کردیا گیا ہے ،ایک بھائی کو میں اپنی جانب سے پہلے ہی حصہ دے چکا ہوں، براہِ کرم دیگر بھائی بہنوں کا شرعی اور قانونی کتنا حصہ بنتا ہے رہنمائی فرمادیجئے۔
میں والد کی جائیداد سے والد کے جو بھی وارثین ہیں، انکو حصہ دینا چاہتا ہوں، اس سلسلے میں رہنمائی فرمادیجئے کہ رقم کس طرح تقسیم کی جائیگی؟
براہِ مہربانی رہنمائی فرمادیجئے، تاکہ دنیا اور آخرت میں ، میں سرخرو ہوسکوں اور انجانے میں مجھ سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو جائے ، آپ کی عین نوازش ہوگی۔
نوٹ : حصہ دینے کے وقت بروکر سے قیمت لگوا کر پھر تمام ورثاء کے حصے معلوم کر کے اس بھائی کاحصہ میں نے ادا کر لیا ،گویا کہ انکا حصہ میں نے خرید لیا تھا۔
سائل کی جس بہن کا انتقال مرحوم والد کی زندگی ہی میں ہو گیا تھا ، اس بہن کا والد مرحوم کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہ ہوگا ، جبکہ سائل نے تقسیمِ ترکہ سے قبل مذکور بھائی سے مشترکہ ترکہ کی جائیداد میں سے اس کا حصہ باہمی رضامندی سے خرید لیا ہو، تو سائل اس حصہ کا مالک بن چکا ہے، چنانچہ اب تقسیمِ ترکہ کے بعد مذکور بھائی کے حصہ میں آنے والی رقم سائل ہی کی ملکیت ہو گی۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی ( 1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چونسٹھ (64) حصے بنائے جائیں جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو آٹھ (8) حصے ، جبکہ دو بیٹوں میں سے ہر ایک کو چودہ (14 ) حصے اور بیٹیوں میں سے ہر ایک کو سات (7 ) حصے دیے جائیں -
کما فی المبسوط : إنما تحقق الوجوب لہ عند الموت ولأن المانع صفۃ الوراثۃ و لا یعرف ذلک الا عند الموت لأن صفۃ الوراثۃ لا تکون الا بعد بقاء الوارث حیاً بعد موت المورث الخ (کتاب الفرائض باب الوصیۃ للوارث ج 27 صـ 176 ط : دار الکتب العلمیۃ)
وکما فی الدر المختار: (وكل) من شركاء الملك (أجنبي) في الامتناع عن تصرف مضر (في مال صاحبه) لعدم تضمنها الوكالة (فصح له بيع حصته ولو من غير شريكه بلا إذن إلا في صورة الخلط) لماليهما بفعلهما كحنطة بشعير وكبناء الخ
وفی رد المحتار: تحت (قوله إلا في صورة الخلط) والاختلاط فإنه لا يجوز البيع من غير شريكه بلا إذنه (إلی قولہ) قلت: ومثل الخلط والاختلاط بيع ما فيه ضرر على الشريك، أو البائع أو المشتري، كبيع الحصة من البناء أو الغراس الخ (کتاب الشرکۃ ج 4 صـ 300 ط: سعید)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2