گزارش ہے کہ میرا بیٹا سید احمد ملکانی ، عمر ۳۳ سال , مؤرخہ دسمبر ۲۰۲۳ء کو انتقال کرگیاتھا ، مرحوم محکمۂ تعلیم میں ملازم تھا، مرحوم نے مندرجہ ذیل ورثاء حیات چھوڑے ہیں:
۱: بشیر محمد ملکانی ، والد ، عمر ۶۱سال
۲: مسماۃ فرزانہ ، والدہ، عمر ۵۰سال
۳ : مسماۃ عظمی ، بیوہ ، ۳۴سال
۴: اعیان حسین ، بیٹا، ۱۱سال
۵: عائزہ فاطمہ ، بیٹی ، ۹سال
۶: علی شان ، بیٹا، ۴سال
قرآن وسنت کی رو سے بتائیں کہ ورثاء کا شریعت میں مرحوم کے جی پی فنڈ ، گروپ انشورنس ، ایل پی آر، مالی امداد وغیرہ اور ان واجبات میں ہر ایک کا کتنا حصہ ہوگا؟ والسلام
سائل کے مرحوم بیٹے کو گورنمنٹ کی طرف سے جی پی فنڈ، گروپ انشورنس ، ایل پی آر، وغیرہ کی مد میں جو رقوم دی جارہی ہیں ان کا حکم درجِ ذیل ہے :
جی پی فنڈ:
جی پی فنڈ بنیادی طور پر ملازم کی تنخواہ سے ہی کاٹی جاتی ہے، اور اس کی دو صورتیں ہیں:
جبری کٹوتی : اس میں ملازم کی تنخواہ سے اسکی اجازت و رضامندی کے بغیر ہر ماہ کچھ مخصوص رقم کاٹی جاتی ہے۔
اختیاری کٹوتی: اس میں ملازم اپنے اختیار سے اپنی تنخواہ سے کٹوتی کرواتا ہے اور اگر ملازم اس کٹوتی کو منع کرے تو اسکی تنخواہ سے کٹوتی نہیں کی جاتی۔
چونکہ جی پی فنڈ خواہ جبری ہو یا اختیاری ، یہ ادارے کی طرف سے تبرع نہیں ہوتا ، بلکہ ملازم کی تنخواہ کا ہی حصہ ہوتا ہے اس لئے اگر ملازم دورانِ ملازمت انتقال کرجاتا ہے تو جی پی فنڈ کی مد میں ملنے والی رقم اسکا ترکہ شمار ہوگی ، جوکہ اس کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے مرحوم بیٹے کو ملنے والا جی پی فنڈ مرحوم کا ترکہ شمار ہوگا، جو دیگر ترکہ کی طرح مرحوم کے تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کیا جائیگا۔ البتہ اگر سائل کے مرحوم بیٹے کی تنخواہ سے جی پی فنڈ کی مد میں رقم اس کے اختیار سے کاٹی جاتی تھی تو اب بہتر اور افضل یہ ہے کہ مرحوم کی تنخواہ سے کاٹی جانے والی رقم اور ادارے کی طرف سے ملائی جانے والی رقم کے علاوہ تیسری سودی رقم وصول نہ کی جائے ، اور اگر وصول کی گئی ہو تو اسے فقراء اور مساکین کو دیدی جائے ۔
گروپ انشورنس:
گروپ انشورنس کی مد میں جمع ہونے والی رقم بھی بنیادی طور پر ملازم کی تنخواہ سے ہی کاٹی جاتی ہے اور جی پی فنڈ کی طرح اسکی بھی دو صورتیں ہیں:
گروپ انشورنس جبری : اس میں ملازم سے اسکی رضامندی اور اختیار کے بغیر اسکی تنخواہ میں سے کچھ رقم کاٹی جاتی ہے ۔(گروپ انشورنس کی جبری پالیسی کا حصہ بن جانے کی صورت میں اصل رقم مع اضافی پریمئم لینا شرعا جائز ہے)
گروپ انشورنس اختیاری: اس میں ملازم کو پالیسی لینے پر مجبور نہیں کیا جاتا ہے، بلکہ ملازم اپنے اختیار سے اسکا حصہ بن جاتا ہے ،اورچونکہ گروپ انشورنس بھی باقی انشورنس کی طرح سود ، قمار، یا غرر پر مشتمل ہوتا ہے اس لئے ابتدائی طور پر اس پالیسی کا حصہ بننا شرعاً جائز نہیں ۔ البتہ اگر کوئی شخص گروپ انشورنس کا حصہ بنے تو ایسی صورت میں اگر یہ انشورنس جبری ہو اور مرحوم ملازم کے پسماندگان انشورنس کمپنی کے بجائے حکومتی ادارے سے ہی گروپ انشورنس کی مد میں رقم وصول کررہے ہوں تو اس رقم کے وصول کرنے میں کوئی حرج نہیں ، لیکن اگر یہ انشورنس اختیاری ہو تو ایسی صورت میں مرحوم ملازم کے پسماندگان کیلئے محکمہ سے صرف اتنی رقم وصول کرنی چاہیئے جو اسکی تنخواہ سے کاٹی گئی ہو، بہر دو صورت گروپ انشورنس کی مد میں ملنے والی رقم بھی مرحوم کا ترکہ شمار ہوگی ، جوکہ اسکے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کی جائیگی۔
لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے بیٹے کی وفات کے بعد محکمہ کی طرف سے گروپ انشورنس کی مد میں جو رقم دی جارہی ہے وہ مرحوم کا ترکہ شمار ہوگی جو دیگر ترکہ کی طرح اسکے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی۔
ایل پی آر:
Leave preparatory to retirement قانونی طور پر ان بامعاوضہ چھٹیو ں کو کہا جا تا ہے جو عموماً کسی ملازم کو اسکی ریٹائرمنٹ retirement سے ایک سال قبل ملتی ہیں-
لہذا سائل کے مرحوم بیٹے کی وفات کے بعد ایل پی آر L.P.R کی مد میں ملنے والی رقم بھی مرحوم کا ترکہ شمار ہوگی جوکہ اسکے تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی۔
مالی امداد وغیرہ:
حکومت کی طرف سے ملنے والی مالی امداد کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں، ذیل میں انکی بنیادی تفصیل اور شرعی حکم بیان کیا جاتا ہے :
1- وہ امداد جس کا ملازم اپنی زندگی میں مالک نہیں تھا، بلکہ اس کے مرنے کے بعد حکومت یا متعلقہ ادارہ ملازم کے ساتھ تبرع و احسان کے طور پر اسکے پسماندگان کو دیتا ہے، جیسے گریجویٹی، پنشن وغیرہ ، تو چونکہ اس نوعیت کے اموال کا ملازم اپنی زندگی میں مالک نہیں ہوتا اس لئے اس کے مرنے کے بعد اس میں میراث کے احکام جاری نہیں ہونگے، بلکہ حکومت یا متعلقہ ادارہ جس فرد کو بھی اس کیلئے نامزد کرے ، وہ ہی اس کا مستحق ہوگا، دیگر ورثاء کا اس میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔
۲: مالی امداد کی دوسری قسم وہ ہے جس کا ملازم اپنی زندگی میں ہی مالک بنا تھا، لیکن ادارہ جاتی پالیسی کی وجہ سے وہ اپنی زندگی میں اسکو قبضہ میں نہیں لاسکتا تھا، جیسے جی پی فنڈ، وغیرہ تو ، چونکہ اس نوعیت کے اموال کا ملازم اپنی زندگی میں ہی مالک ہوتا ہے اس لئے اسکی وفات کے بعد دیگر اموال کے ساتھ اس پر بھی میراث کے احکامات لاگو ہونگے، اور یہ تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کیا جائیگا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے بیٹے کی وفات کے بعد اسکو ملنے والی مالی امداد اگر اس طرح کی ہو کہ اسکا بیٹا زندگی میں اسکا مالک بناتھا، مثلاً اوور ٹائم کی تنخواہ، سال بھر کے اختیاری چھٹیوں میں کام کی تنخواہ وغیرہ ، تو اسپر میراث کے احکام جاری ہونگے اور تمام ورثاء اس میں حسبِ حصصِ شرعیہ حقدار ہونگے ۔ البتہ اگر مالی مدد حکومت کی طرف سے محض تبرع ہو تو اس کا حقدار صرف وہی فرد ہوگا جسکو حکومت نامزد کریگا۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کے مرحوم بیٹے کاترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا ،کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد ،سونا ،چاندی ،زیورات ،نقدرقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے( جس میں حسبِ سوال جی پی فنڈ، گروپ انشورنس کی مد میں ملنے والی اصل رقم، ایل پی آر بھی داخل ہیں) اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف اداکریں البتہ اگر کسی نے مرحوم کی وفات کے وقت یہ مصارف ازخود تبرعا ادا کیے ہوں تو اب دوبارہ منہا نہیں کیے جائینگے، اس کے بعد دیکھیں کہ مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہوتو وہ بھی ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حدتک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائیں اسکے کل ایک سو بیس حصے کیے جائیں، جن میں سے بیوہ کو پندرہ حصے، ہر بیٹے کو چھبیس ، چھبیس حصے، بیٹی کو تیرہ حصے، والد اور والدہ میں سے ہر ایک کو بیس اور والدہ کو بھی بیس حصے دیے جائیں -
في البحر الرائق في شرح كنزالدقائق لزين الدين ابن نجيم المصري : (قوله والأجرة لا تملك بالعقد) لأن العقد ينعقد شيئا فشيئا على حسب حدوث المنفعة على ما بينا والعقد معاوضة (إلى قوله) (قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره لأنها لو كانت دينا لا يقال أنه ملكه المؤجر قبل قبضه وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر كذا في المحيط لكن ليس له بيعها قبل قبضها اه (7/300)
وفي الفتاوى الهندية : ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي. وكما يجب الأجر باستيفاء المنافع يجب بالتمكن من استيفاء المنافع إذا كانت الإجارة صحيحة حتى إن المستأجر دارا أو حانوتا مدة معلومة ولم يسكن فيها في تلك المدة مع تمكنه من ذلك تجب الأجرة، كذا في المحيط اه (4/413)
و في شرح المجلة : "المادة (2 9 0 1) - (كما تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين وارثيه على حسب حصصهم كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين وارثيه على حسب حصصهم)."(3/55)
و قال الله تعالى في القرآن الكريم : يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡخَمۡرِ وَٱلۡمَيۡسِرِۖ قُلۡ فِيهِمَآ إِثۡمٞ كَبِيرٞ وَمَنَٰفِعُ لِلنَّاسِ وَإِثۡمُهُمَآ أَكۡبَرُ مِن نَّفۡعِهِمَاۗ الآية (البقرة:219)
وقال تعالى : يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡخَمۡرُ وَٱلۡمَيۡسِرُ وَٱلۡأَنصَابُ وَٱلۡأَزۡلَٰمُ رِجۡسٞ مِّنۡ عَمَلِ ٱلشَّيۡطَٰنِ فَٱجۡتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ (المائدة:90)
و في الدر المختار مكتبة مصطفي البابي الحلبي بمصر : وعلى هذا لو مات مسلم وترك ثمن خمر باعه مسلم لا يحل لورثته كما بسطه الزيلعي وفي الأشباه الحرمة تنتقل اه
وفي حاشية بن عابدين (ت:1252)مكتبة مصطفي البابي الحلبي بمصر : وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ اه (6/385)
و في الدر المختار للعلامة الحصكفي: (يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) اه
و في حاشية بن عابدين (ت : 1252) مكتبة مصطفي البابي الحلبي: تحت (قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة لأن تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية اه (6/759)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2