کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سائل کے بھائی کی شادی ہوئی، اور مہر میں دو کنال زمین گاؤں سے اور ایک پلاٹ کراچی میں اور سات تولہ سونا مقرر کیا گیا، اور عورت نے جنات کی وجہ سے اپنے آپ کو خود آگ لگا کر جلا دیا تھا، اور ہسپتال میں داخل ہونے کی وجہ سے کافی خرچہ آیا ، جو کہ اس کے شوہر نے ہی ادا کیا ہے، اور کچھ ماہ کے بعد عورت فوت ہوگئی، جس کے بعد عورت کے والدین نے جہیز کا سارا سامان اور سات تولہ سونا بھی لے لیا، اور اب عورت کے والدین مذکور دو کنال زمین اور ایک پلاٹ کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں ، لہذا شریعت کی رو سے ان کا یہ مطالبہ کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟ شوہر کو اس میں سے کتنا حصہ ملے گا؟ اور عورت کے ورثاء میں شوہر، والدہ ، تین بہنیں اور دو بھائی موجود ہیں ۔
نوٹ : شوہر نے ہسپتال میں داخل ہونے کی وجہ سے جو خرچہ کیا، اس میں عورت کے گھر والوں کو کتنا خرچہ دینا ہوگا ، جبکہ مرحومہ کے والد پہلے ہی وفات پاچکے ہیں ۔
واضح ہو کہ شادی کے موقع پر لڑکی کو اس کے گھر والوں کی جانب سے جو جہیز، تحائف اور سامان وغیرہ بطور ملکیت دیا جاتا ہے، اسی طرح جو زیورات وغیرہ شوہر اور اس کے والدین کی طرف سے حق مہر یا بطورِ ہدیہ باضابطہ مالک و قابض بنا کر دیے جاتے ہیں ، وہ سب لڑکی کی زندگی میں اسی کی ملکیت شمار ہوتے ہیں ، جبکہ مرنے کے بعد وہ اشیاء لڑکی کا ترکہ شمار ہو کر اس کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کرنا لازم ہوتا ہے ، لہذا سائل کی بھابھی کو جو تحائف اور جہیز کا سامان اس کے گھر والوں کی طرف سے دیا گیا تھا ، اسی طرح جو زیورات وغیرہ سائل کے بھائی اور اس کے والدین کی طرف سے حق مہر یا بطورِ ہدیہ باضابطہ مالک و قابض بنا کر دیا گیا تھا ، سائل کی بھابھی زندگی میں ان ساری چیزوں کی مالک بن چکی تھی، لہذا اب اس کے انتقال کے بعد یہ تمام چیزیں مرحومہ کا ترکہ شمار ہوکر شوہر ، والدہ اور بہن بھائیوں میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ، ( جیسا کہ آگے آرہا ہے ) ، لہذا مرحومہ کی والدہ کا مذکور تمام سامان اور سات تولہ سونے پر قبضہ کرکے شوہر کو اس کا شرعی حق نہ دینا شرعاً جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ، جبکہ بوقت ضرورت سائل کا بھائی اپنے حق کی وصولیابی کی خاطر قانونی چارہ جوئی کا بھی مجاز ہے ، البتہ شوہر کی جانب سے ہسپتال میں کیے گئے اخراجات تبرع شمار ہوں گے ، اس لئے اب شوہر کا کسی سے ان اخراجات کا مطالبہ کرنا درست نہ ہوگا ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کی بھابھی مرحومہ کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصول میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے ، مرحومہ کے کفن دفن کے مصارف شوہر کے ذمہ لازم ہیں ، چنانچہ یہ مصارف اگر شوہر نے یا کسی اور نے بطور تبرع ادا کئے ہوں تو اب یہ ترکہ سے منہا نہ ہوں گے، اس کے بعددیکھیں کہ اگر اس کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل بیالیس (42) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحومہ کے شوہر کو اکیس (21) حصے ، والدہ کو سات (7) حصے ،ہر بھائی کو چار ( 4) حصے ، ہربہن کو دو (2) حصے دیے جائیں -
كما في البحر الرائق : ولو جهز ابنته وسلمه إليها ليس له في الاستحسان استرداده منها وعليه الفتوى ( إلى قوله) لو جهز بنته ثم ادعى أن ما دفعه لها عارية وقالت تمليكا أو قال الزوج ذلك بعد موتها ليرث منه الخ ( كتاب النكاح ، باب المهر، ج 3، ص 200، ط : دار الكتب الإسلامي)-
و في الدر المختار : جهز ابنته بجهاز وسلمها ذلك ليس له الاسترداد منها ولا لورثته بعد أن سلمها ذلك وفي صحته) بل تختص به (وبه يفتى) ( كتاب النكاح ، باب المهر، ج 3، ص 155، ط : سعيد)-
و في الفقه الإسلامي و أدلته : نفقات العلاج : قرر فقهاء المذاهب الأربعة أن الزوج لا يجب عليه أجور التداوي للمرأة المريضة من أجرة طبيب وحاجم وفاصد وثمن دواء، وإنما تكون النفقة في مالها إن كان لها مال، وإن لم يكن لها مال، وجبت النفقة على من تلزمه نفقتها ( ج 10، ص 7380، ط : دار الفكر، بيروت)-
و في رد المحتار : تحت (قوله كما لا يلزمه مداواتها) أي إتيانه لها بدواء المرض ولا أجرة الطبيب ولا الفصد ولا الحجامة هندية عن السراج. والظاهر أن منها ما تستعمله النفساء مما يزيل الكلف ونحوه الخ ( باب النفقة، ج 3، ص 575، ط : سعيد)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2