کیا فرماتے ہےمفتیان کرام مندرج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والد صاحب مسمی نور الاسلام کا انتقال ہو چکا، بوقت انتقال ان کے ورثاء میں بیوہ مسماۃ حسنی بیگم ، ایک بیٹا ابو الحسن اور ایک بیٹی تہمینہ اختر موجود تھی، اب والد صاحب کا ترکہ شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟
سائل کے مرحوم والد کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصول میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو ساز سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں اس کے بعددیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو یا اس نے بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چوبیس (24) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو تین (3 ) حصے ، بیٹے کو چودہ (14) حصے اور بیٹی کو سات (7) حصے دیے جائیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2