معلوم یہ کرنا ہے کہ اگر کسی کے والد نے وراثت میں اپنی بہن کو حصہ نہ دیا ہو یعنی بہن کا حصہ بھی اپنے نام لگوادیا زبردستی ،تو والد کی وفات کے بعد بیٹے کو اپنی پھوپھو کو وہ حصہ دینا ضروری ہے،اگر وہ بیٹا اپنی پھوپھو کو وہ حصہ نہ دے تو کیا وہ گناہگار ہوگا ۔
واضح ہوکہ میراث میں مورث کے ترکہ میں سے صرف وہ مال تقسیم کیا جائے گا جس کے ساتھ دوسروں کا حق متعلق نہ ہو، کیونکہ جس مال کے ساتھ دوسروں کا حق متعلق ہویا اس کو ناجائز طریقے سےحاصل کیا ہو تو وہ مال تقسیم نہیں کیا جائے گا، بلکہ اگر اس کامالک معلوم ہو تو اصل مالک کو لوٹانا لازم ہےاور اگر مالک معلوم نہ ہوتو اس کو مالک کی طرف سے صدقہ کرنا لازم ہے۔لہذااگرکسی کےوالدنے اپنی بہنوں کو میراث میں حصہ نہیں دیا تھاتووالدکے انتقال کے بعداس کے ورثاء کے ذمہ والدکی بہنوں یعنی اپنی پھوپھیوں کوان کے والد(یعنی اپنے دادا)کی میراث میں سے جتناان کا حصہ بنتا ہو وہ دینا لازم وضروری ہےاوراس کوکسی طوراپنے پاس رکھنااوراس میں تصرف کرنایااس سے نفع حاصل کرناان کے لیے حلال نہیں اور ان کے مرحوم والدکےترکہ میں بہنوں کے اس حصہ کی بقدر میراث جاری نہیں ہوگی، لہذا سائل کےوالد کو ان کی میراث میں سے جو حصہ ملا ہےاس میں جتنا حصہ سائل کے والد کی بہنوں (پھوپھیوں )کا بنتا ہےوہ اس کے لیے حلال نہیں، اس حصے کوان کے اصل حقداروں یا ان کے ورثا کو لوٹانا لازم ہے۔ اس کواپنے زیراستعمال رکھ کرمستفیدہونے اورنفع حاصل کرنے سے احترازلازم ہے۔
کمافی المشکاۃ المصابیح:عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين». (1/254)
وفیه أیضاً: وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه(.(1/266
وفی الدرالمختار: يبدأ من تركة الميت الخاليةعن تعلق الغير بعينها۔( 10/493 دار الكتب العلمية)
وفی الشامية: والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه۔( 7/301)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2