السلام علیکم!
امید ہے اللہ کے فضل سے آپ بخیریت ہونگے، محترم ایک مسئلہ کے سلسلہ میں آپ سے رہنمائی مطلوب ہے: عرض یہ ہے کہ ہم سات بھائی تھے، اور ہمارے سب سے بڑے بھائی میری پیدائش سے بھی پہلے گھر سے نکل کر نامعلوم مقام پر چلے گئے تھے اور تقریباً چالیس سال تک والدین اور بھائیوں سے کوئی رابطہ نہ تھا، نہ ہی انہوں نے اپنے والدین کی کوئی خیر خبر لی اور مالی وجانی خدمت کی، جب یہ بھائی گھر سے نکلے اس وقت والد صاحب کی ملکیت میں (1 ایکڑ) زمین تھی، اس کے بعد باقی بھائیوں نے محنت مزدوری کی اور اپنے والد صاحب کو رقم دیتے رہے، جس پر انہوں نے اور زمین خریدی جو کل ملاکر تقریباً (3 ایکڑ) ہے، ہمارے والد صاحب کی وفات سے کچھ عرصہ قبل بڑے بھائی کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ زندہ ہیں اور انڈیا میں رہائش پذیر ہیں، پھر ہم نے ان سے خط کتابت کے ذریعہ رابطہ کیا اور ہمارے بھائی (1986ء) میں اپنے بچوں کو لیکر پاکستان آگئے، اور والد صاحب اور بھائیوں سے ملاقات کی، تو والد صاحب نے ان سے ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ میرا بڑا بیٹا میری جائیداد کا حقدار نہیں، کیونکہ اس نے میری چالیس سال تک کوئی خیر خبر نہیں لی، والد صاحب کے انتقال کے بعد بھائیوں نے جائیداد کی تقسیم شروع کی تو بڑے بھائی نے کہا کہ چونکہ میں نے بعد میں خریدی جانے والی زمینوں میں والد صاحب اور بھائیوں کی کوئی معاونت نہیں کی اور یہ بھائیوں کی محنت ہے، اسلئے مجھے جتنا بھی حصہ دیدیں مجھے منظور ہے،(1996ء)میں بھائیوں نے والد صاحب کی اصل زمین جوکہ تقریباً (1 ایکڑ) تھی، اور بڑے بھائی کی موجودگی کے زمانے سے تھی، اس میں سے ان کے حصہ سے زیادہ زمین ان کو دیدی جس کو انہوں نے بخوشی قبول کرلیا، اور زبانی طور پر بھائیوں کے سامنے اپنی رضی مندی کا اظہار بھی کیا لیکن تحریری طور پر کوئی ثبوت نہیں ہے، بڑے بھائی کو جو زمین ملی انہوں نے اسی وقت اپنے دو بیٹوں میں برابر تقسیم کردی (ان کی چھ بیٹیاں بھی تھیں جن کو انہوں نے کچھ نہیں دیا) دونوں بیٹوں میں سے بڑے بیٹے (الف) نے چھوٹے بیٹے (ف) کو اس کے حصہ کی زمین کے پیسے دیکر زمین اس سے خریدلی اور تقریباً 28 سال تک زمین سے نفع اٹھاتا رہا، اس دوران ہمارے بڑے بھائی سمیت پانچ بھائیوں کا انتقال ہوگیا، اب بڑے بھائی کا بیٹا (الف) کہہ رہا ہے کہ چونکہ میرے والد کے بھائیوں نے یعنی (الف) کے چچاؤں نے پوری مکمل زمین میں سے میرے والد صاحب کو جو حصہ بنتا ہے اس سے کم دیا ہے، اسلئے پوری (3 ایکڑ) زمین میں سے اپنے والد صاحب کے مزید حصہ کا مطالبہ کردیا ہے، اس ساری تفصیل کی روشنی میں درجِ ذیل سوالات کا شریعت کی روشنی میں جواب درکار ہے۔
1 ـ کیا میرے بڑے بھائی کی رضامندی کے باوجود ان کے بیٹے کا ان کے انتقال کے بعد مطالبہ جائز ہے؟
2 ـ کیا بڑے بھائی کی بیٹیاں اس زمین کی حقدار نہیں ہیں جو انہوں نے دونوں بیٹوں کو دی ہے؟
3 ـ اگر بڑے بھائی کے بیٹے کا مطالبہ صحیح ہے، تو جائیداد کی تقسیم دوبارہ کیسے کی جائیگی، جبکہ دو بھائیوں نے اپنے حصہ کی کچھ زمین تیسرے بھائی کو فروخت بھی کردی؟
براہ کرم ان سوالات کے جوابات عنایت فرماکر ہماری تشنگی دور فرمائیں ۔جزاک اللہ خیرا
واضح ہوکہ اگر کوئی شخص ترکہ میں سے کوئی چیز لے کرباقی ترکہ سے دستبردار ہوجائے، تو شرعاً یہ دستبرداری معتبر ہوتی ہے، اور باقی ترکہ میں سے اس کا حصہ ختم ہوجاتاہے، لہذا سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ سائل کے بڑے بھائی نے برضا وخوشی ترکہ کی زمین میں سے کچھ حصہ لیکر بقیہ ترکہ سے دستبرداری کا اظہار کیا ہو، جس کا کوئی ثبوت موجود ہو یا مرحوم بھا ئی کے ورثاء اس کی تصدیق کرتے ہوں، تو ایسی صورت میں شرعاً سائل کے بڑے بھائی مرحوم کا بقیہ ترکہ میں حصہ ختم ہو چکا ہے، لہذا اب سائل کے مذکور بھتیجے کا سائل یا اپنے چاچاؤں کی اولاد سے ترکہ کی زمین میں سے مزید حصے کا مطالبہ کرنا درست نہیں جس سے اجتناب لازم ہے، چنانچہ اب دوبارہ از سرے نو تقسیم ترکہ کی ضرورت نہیں۔
جبکہ سائل کے بڑے بھائی مرحوم کو ترکہ میں سے زمین ملنے کے بعد اسے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا اور بلا کسی عذر کے بیٹیوں کو بالکلیہ محروم کردینا تو شرعاً جائز نہیں، بلکہ مرحوم کو بیٹوں کی طرح اپنی بیٹیوں کو بھی حصہ دینا چاہیئے تھا، لیکن اگر مرحوم نے مذکور زمین اپنے دو بیٹوں میں تقسیم کرکے ہر بیٹے کو اسکے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ دیدیا تھا، تو ایسی صورت میں شرعاً مرحوم کے بیٹوں میں سے ہر ایک اپنے اپنے حصہ کا مالک بن چکا ہے، چنانچہ اب اس زمین میں سائل کے بڑے بھائی مرحوم کی بیٹیوں کا کوئی حصہ نہیں، تاہم اگر مرحوم نے اس زمین کے علاوہ بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں کچھ چھوڑا ہو تو اس میں مرحوم کی بیٹیاں بھی اپنے حصوں کے بقدر حقدار ہونگی۔
کما فی شرح الاشباہ والنظائر: لو قال الوارث: ترکت حقی لم یبطل حقہ اذالملک لایبطل بالترک (الی قولہ) وحق الوارث قبل القسمۃ (الی قولہ) بیان الساقط لایعود: فلا یعود الترتیب بعد سقوط بقلۃ الفوائت، بخلاف ما اذا سقط بالنسیان الخ (ج3 صـ53-60 مایقبل الاسقاط من الحقوق وما لایقبلہ ط: ادارۃ القرآن)۔
وفی السراجی: فصل فی التخارج: من صالح علی شئی من الترکۃ فاطرح سھامہ من التصحیح ثم اقسم ما بقی من الترکۃ علی سھام الباقی الخ (صـ26 ط: قدیمی)۔
وفی الدرالمختار: (اخرجت الورثۃ احدھم عن) الترکۃ وھی (عرض او) ھی عقار بمال اعطاہ لہ (او) اخرجوہ (عن) ترکۃ ھی (ذھب بفضۃ) دفعوھا لہ (او) علی العکس او عن نقدین بھما (صح) فی الکل صرفا للجنس بخلاف جنسہ (قل) ما اعطوہ (او کثر) لکن بشرط التقابض فیما ھو صرف الخ (ج5 صـ642 فصل فی التخارج ط: سعید)۔
وفی الدرالمختار: (وتتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (ولو الموھوب شاغلا لملک الواھب لامشغولا بہ) والاصل ان الموھوب ان مشغولا بملک الواھب منع تمامھا وان شاغلا لا الخ (ج5 صـ690-691 کتاب الھبۃ ط: سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0