کیا فرماتے ہیں علماء ومفتیانِ کرام جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی کے , میرے اس مسئلہ کے بارے میں ؟
میرا نام محمد ناصر ولد غلام اکبر ہے،بچپن ہی میں میری والدہ اور والد کے درمیان جدائی ہوئی،پھر والدہ نے مجھے نانا کے گھر میں پالا،اور بڑا کیا،اور مستقل طور پر میں اپنے نانا غلام محمد کے ساتھ رہا،عقل وہوش سنبھالنے کے بعد میرے اپنے والد غلام اکبر سے برابر تعلقات اور بوقتِ ضرورت آنا جانا رہا،پھر ایک عرصہ گزرنے کے بعد میں نے اپنے والد مرحوم سے اپنے حصہ کا مطالبہ کیا،اور اپنی پریشانی کا اظہار کیا،لیکن والد مرحوم کا کہنا ہوتا کہ مناسب وقت پر آپ کو پورا حصہ دونگا ،کبھی کہتے کہ آپ کی بچیوں کی خاطر آپ کو پورا پورا حصہ دونگا،اس بات پر باقاعدہ میری سوتیلی امی اور ایک دو ذمہ دار شخص گواہ بھی موجود ہیں ،جو کہ اب بھی زندہ ہیں ،پھر ایک وقت میں مجھے مالی طور پر پریشانی ہوئی،میں بطورِ جرگہ ایک سمجھدار آدمی کو اپنے والد مرحوم کے پاس لے گیا،اور ساتھ خود بھی گیا کہ مجھے حصہ دو،ابو کہنے لگے آپ کو آپ کا حصہ ہر صورت میں ملے گا،لیکن مناسب وقت آنے پر،اب ابو کے انتقال کو تقریباً چارسے پانچ مہینے ہونے والے ہیں،جبکہ ابو نے میراث میں ایک خطیر رقم اچھی خاصی جائیداد، فلیٹ،بنگلے،باغات وغیرہ چھوڑے ہیں ، لیکن میرےدوسرے برادران کا کہنا ہے کہ والد کی میراث میں آپ کا کوئی حصہ نہیں،کیونکہ بچپن ہی سے آپ نانا کے ساتھ رہ رہے ہو،اور کاغذات میں یہ جائیداد وغیرہ دوسرے بھائیوں کے نام ہے،(جبکہ ابھی تک یہ بات بھی واضح طور پرسامنے نہیں آئی کہ واقعی میں ان کے نام پر ہے یا والد کے نام پر) بھائیوں کے پاس کوئی گواہ یا ثبوت بھی نہیں اس کے باوجود بھائی صاف انکار کرتے ہیں،اور دعوی کرتے ہیں کہ یہ جائیداد ساری ہماری ہے،جبکہ شہر کراچی میں یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ کبھی قانونی کاروائی سے بچنے کے لیے جائیداد،فلیٹ ،اور بنگلوں کے پیپر الگ ناموں پر بنوائے جاتے ہیں،اب پوچھنا یہ ہے کہ تمام جائیداد باپ کی ملک ہوکر تمام بہن بھائیوں میں برابر تقسیم ہوگی یا جن کے نام پر ہے تنہا ان کی ملکیت رہےگی؟جبکہ میرے پاس آخری وقت تک گواہ موجود ہے،جس میں باپ نے ہمیشہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔
ورثاء کے نام : بیوہ
بہن بھائیوں کے نام :حفیظ اللہ،مرتضی اکبر،ارتضی اکبر،عمران اکبر،ناصر ،ثمناز بی بی،وحیدہ بی بی،عارفہ بی بی ۔
سائل کے والد مرحوم نے اگر اپنی زندگی میں اپنا مال و جائیداد سائل کے علاوہ اپنی دیگر اولاد کےدرمیان تقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصے پر مالکانہ قبضہ نہ دیا ہو،تو ایسی صورت میں اگرچہ سائل بچپن سے اپنی والدہ کے ساتھ اپنے نانا کے ہاں رہائش پذیر ہے،تب بھی چونکہ دیگر اولاد کی طرح سائل بھی اپنے مرحوم والد کی حقیقی اولاد ہے،اس لئے دیگر اولاد کی طرح سائل بھی والد مرحوم کے ترکے میں اپنے شرعی حصے کے بقدر حقدار ہوگا،اور سائل کے دیگر بھائیوں کا اس میں کسی قسم کا رکاوٹ بننا شرعاً جائز نہ ہوگا،ورنہ مؤخذۂ اخروی سے سبکدوشی نہ ہوسکے گی۔
کما فی مشكاة المصابيح : وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه اھ (ج1 ص 266 کتاب الوصایا ط: قدیمی کتب خانہ)۔
وفی الدر المختار: ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده الخ( ج6 ص774 کتاب الفرائض ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها الخ (ج5 ص690 کتاب الھبۃ ط: سعید)۔