والد مرحوم کے ترکہ کا مکان ہے، جس کی مالیت پچاس لاکھ (5000000 )ہے،اور اس کے ورثاء میں دو بیٹے ،چار بیٹیاں ہیں،جبکہ والدہ اور دادا ،دادی کا انتقال والد مرحوم سے پہلے ہوا ہے۔
لہذا یہ مکان درجِ بالا ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا ؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں شکریہ
سائل کےوالد مرحوم کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلوساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1 ) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل (8) حصے بنائےجائیں،جن میں سے مرحوم کے ہر بیٹے کو دو(2) حصےاور ہر بیٹی کو ایک (1) حصہ دیا جائے -