السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی ایسے شخص کا انتقال ہو جائے جسکا کوئی بیٹا نہ ہو صرف تین بیٹیاں اور ایک بیوہ ہو جبکہ اسکی جائیداد بھی غیر ترکہ شدہ ہو یعنی اسکی اپنی کمائی شدہ ہو نہ کہ والد سے ترکہ شدہ تو ایسی صورت میں متوفی کا اگر کوئی بہن یا بھائی زندہ ہو تو انکا کوئی وراثت میں حصہ ہو گا؟ نیز اگر متوفی کے فوت شدہ بھائیوں کی اولاد ہو تو وراثت میں کوئی انکا حصہ ہو گا؟ برائے مہربانی وضاحت فرما دیں اور اس نکتہ کی خصوصی وضاحت فرما دیں کہ ترکہ شدہ یا غیر ترکہ شدہ جائیداد کی وراثت کی تقسیم میں کوئی فرق ہے یا نہیں جبکہ متوفی کی اولاد نرینہ نہ ہو؟
اگر کسی ایسے شخص کا انتقال ہو جائے جسکی نرینہ اولاد نہ ہو ، تو اس نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت مین جو کچھ چھوڑا ہو(خواہ وہ اسکی ذاتی کمائی ہو یا اسے والدین کے ترکہ میں ملا ہو)اس میں اس کی بیوہ اور بیٹیوں کے ساتھ شرعاً اسکے زندہ بہن بھائی بھی حصہ دار ہونگے،جبکہ فوت شدہ بھائی اگر مرحوم بھائی کی زندگی میں انتقال کر چکے ہوں تو ایسی صورت میں دیگر بہن بھائیوں کی موجودگی میں فوت شدہ بھائیوں کی اولاد مرحوم چاچا کے ترکہ میں حصہ دار نہ ہوگی، البتہ اگر فوت شدہ بھائی اپنے مرحوم بھائی کی وفات کے بعد انتقال کر چکے ہوں تو ان کی اولاد بواسطہ مرحوم چاچا کے , ترکہ میں حصہ دار ہوگی۔
کما فی الدر لمختار: (يقسم الباقي) بعد ذلك (بين ورثته) أي الذين ثبت إرثهم بالكتاب أو السنة الخ
و فی رد المحتار: تحت (قوله أي الذين ثبت إرثهم بالكتاب) أي القرآن وهم الأبوان والزوجان والبنون والبنات والإخوة والأخوات الخ (کتاب الفرائض ج 6 صـ 762 ط: سعید)
وفیہ ایضاً: تحت (قوله إلا أن يصطلحا) أي الولدان فإن الميراث لا يعدوهما (إلی قولہ) بيانه أن شرط الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث الخ (کتاب الفرائض ج 6 آصـ 769 ط: سعید)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2