کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد کا انتقال ہوا، جن کے ورثاء میں بیوہ رضیہ، چار بیٹے( علاء الدین، جمال الدین، کمال الدین، شیرازالدین)، تین بیٹیاں، (سلمیٰ، ستارہ، اور نغمہ ) موجود تھے۔ اس کے بعد ستارہ کا انتقال ہوا، شوہر عمر، چھ بیٹے (کامران، رضوان ، عرفان، فیضان، ذیشان، مبین)، دوبیٹیاں (نوشین اور نورین )موجود تھیں، بیٹے مبین اور نورین کا انتقال بچپن میں ہو گیا تھا، اسکے بعد بیوہ رضیہ کا انتقال ہوا، ورثاء میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں موجود تھیں ، اسکے بعد بیٹے شیراز کا انتقال ہوا، ورثاء میں بیوہ فرحت ، تین بھائی اور دو بہنیں موجود تھیں، اسکی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اسکے بعد بیٹے جمال کا انتقال ہوا، ورثاء میں بیوہ فوزیہ، دو بیٹے،( مزمل اور مدثر)، تین بیٹیاں( ماہم، مریم، اور ایمان) موجود ہیں۔ اسکے بعد بیٹی سلمیٰ کا انتقال ہوا، ورثاء میں شوہر محمد رفیع، دو بیٹے (فہیم، ندیم)، اور دو بیٹاں( ارم اور کرن) موجود ہیں، چھ ماہ بعد شوہر محمد رفیع کا انتقال ہوا، جسکے والدین پہلے انتقال کر گئے تھے۔
واضح ہو کہ سائلہ کے مرحوم والد کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو ساز سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعددیکھیں کہ اگر اس کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل (619520 ) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم والد کے ہر ایک بیٹے (علاء الدین اورکمال الدین) کو ایک لاکھ پینتیس ہزار چار سو بتیس (135432) حصے اور مرحوم کی بیٹی (نغمہ) کو سڑسٹھ ہزار سات سو سولہ(67716) حصے ، مرحوم کے داماد (عمر) کو بارہ ہزار تین سو بیس(12320) حصے ،اور مرحوم کے ہر ایک نواسہ ( کامران ، رضوان ، عرفان ، فیضان ، ذیشان) کو چھ ہزار سات سو بیس(6720) حصے، اور نواسی (نوشین) کو تین ہزار تین سو ساٹھ(3360) حصے ، اور بہو (فرحت) کو اٹھائیس ہزار پانچ سو بارہ(28512) حصے، بہو (فوزیہ) کو سولہ ہزار نو سو انتیس(16929) حصے ، اور ہر ایک پوتے (مزمل اور مدثر) کو تینتیس ہزار آٹھ سو اٹھاون (33858) حصے، اور ہر ایک پوتی ( ما ہم، مریم اور ایمان) کو سولہ ہزار نو سو انتیس (16929) حصے، اور مرحوم کے دوسرے نواسوں (فہیم اور ندیم) میں ہر ایک کو بائیس ہزار پانچ سو بہتر (22572) حصے، اور ہر ایک نواسی (ارم اور کرن ) میں سے ہر ایک کوگیارہ ہزار دو سو چھیاسی(11286)حصےدیے جائیں-