السلام علیکم!
مجھے یہ سوال کرنا تھا کہ ہم تین بھائی ہیں اور میرے والد صاحب مصالحے کا کام کرتے تھے اور میرے بڑے بھائی جو ہیں ان کی ہیلپ کرتے تھے اور بڑے بھائی مصالحے کے جو بھی پیسے ہوا کرتے تھے بڑے بھائی ابو کو لا کے دے دیا کرتے تھے پھر والد صاحب ان پیسوں سے میری والدہ کو میری بہنوں کو اور مجھے کچھ پیسے دیا کرتے تھے پھر والد صاحب کا انتقال ہو گیا تو بڑے بھائی نے وہ کام سنبھالا اور سارا پیسہ والدہ کو لا کے دیتے جس سے والدہ کچھ کم رقم بہنوں کو دیا کرتی تھی اور مجھے بھی کبھی دیے کبھی نہیں دیے پھر والدہ کا انتقال ہو گیا اور بڑے بھائی نے ہم لوگوں کو پیسے دینا بند کر دیا ہے اور سارا کام خود سنبھالا اور خود اس کا پرافٹ رکھا اور اس کے کچھ بھی پیسے پرافٹ کے ہمیں نہیں دیے اب آیا ہمارا اس میں کوئی حق نہیں ہے ؟ یہ وراثت کی چیز ہے یا نہیں ہے ؟ والد اور والدہ دونوں کا انتقال ہو چکا ہے اور اس میں ہمارے بڑے بھائی خود کام کرتے ہیں اور خود ہی مصالحے کو سپلائی کرتے ہیں اور خود ہی مصالحہ بنواتے ہیں۔
سوال میں مذکور کاروبار اگر سائل کے والد مرحوم نے اپنی ذاتی سرمایہ سے شروع کیا تھا، اور اس کا بڑا بیٹا(سائل کا بھائی) اس کام میں ہاتھ بٹھانے کی حد تک والد مرحوم کے ساتھ اس کام میں شریک تھا، تو ایسی صورت میں سائل کا بڑا بھائی اپنے والد کے کاروبار میں محض معاون شمار ہوگا، لہذا والد مرحوم کے انتقال کے بعد یہ تمام کاروبار والد مرحوم کا ترکہ شمار ہو کر ، سائل سمیت تمام ورثاء اس ترکہ میں حسبِ حصصِ شرعیہ حقدار ہیں، چنانچہ والدین کی وفات کے بعد سائل کے بڑے بھائی کا تمام کاروبار پر خود قابض ہوکر دیگر ورثاء کو ان کے حصصِ شرعیہ سے محروم کرنا ناجائز و حرام ہے، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہورہا ہے، لہذا اسے چاہیئے کہ اللہ کے حضور اپنے اس فعل پر بصدقِ دل توبہ واستغفار کرتے ہوئے مذکور کاروبار سے ورثاء کو ان کا حصۂ شرعیہ دیکر مؤاخذۂ دنیوی و اخروی سے سبکدوشی کی فکر کرے، بصورتِ دیگر ورثاء اپنے حق کی وصولیابی کے لئے قانونی چارہ جوئی کے بھی مجاز ہوں گے۔
کما فی رد المحتار: عن القنية: الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له ألا ترى لو غرس شجرة تكون للأب الخ (فصل في الشرکة الفاسدة ،ج4، ص325،ط:سعید)۔
وفی درر الحكام فی شرح مجلۃ الاحکام : المادة (1398) - (إذا عمل أحد في صنعته مع ابنه الذي في عياله فكافة الكسب لذلك الشخص ويعد ولده معينا، كما أنه إذا غرس أحد شجرا فأعانه ولده الذي في عياله فيكون الشجر لذلك الشخص ولا يشاركه ولده فيه الخ) إذا عمل أحد في صنعة هو وابنه الذي في عياله واكتسبا أموالا ولم يكن معلوما أن للابن مالا سابقا فكافة الكسب لذلك الشخص ولا يكون لولده حصة في الكسب بل يعد ولده معينا وليس له طلب أجر المثل (الكتاب العاشر، الباب السادس، الفصل السادس، المبحث الثاني،ج3،ص421، ط: ط: دار الجيل)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2