احکام وراثت

لاپتہ بھائی کے ترکہ کی تقسیم کا حکم

فتوی نمبر :
72455
| تاریخ :
2024-04-11
معاملات / ترکات / احکام وراثت

لاپتہ بھائی کے ترکہ کی تقسیم کا حکم

السلام علیکم رحمۃ اللہ و برکاتہ! ایک آدمی جس کے 3 بیٹے اور 1 بیٹی اور 1 بیوی ہو۔ سب سے بڑے بیٹے کا ذہنی توازن ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے اس کی شادی نہیں کروائی گئی۔ جس کی عمر تقریباً 50 سال ہو چکی تھی۔ جبکہ دوسرے 2 بیٹوں اور بیٹی کی شادیاں کروا دی گئیں اور ان کے ہاں اولاد بھی موجود ہے۔ پھر 1990 میں اچانک ایک دن بڑا بیٹا جس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا، شہر کی طرف جاتا ہے اور گم ہو جاتا ہے۔ اپنی طاقت و بساط کے مطابق ہر طرح سے اس کی تلاش کی جاتی ہے۔ مگر وہ نہیں مل سکا۔ تقریباً عرصہ 3 سال گزرنے کے بعد 1993 میں وہ آدمی فوت ہو جاتا ہے جبکہ اس کا بیٹا تا حال گم ہی ہے۔ اب اس نے اپنے پسماندگان میں 1 بیوی 2 بیٹے اور 1 بیٹی چھوڑی جبکہ 1 بیٹا مفقود الخبر ہے۔ تقریباً مزید عرصہ 2 سال اور 6 سال کے بعد بیوی 1995 میں اور بیٹی 1999 میں یکے بعد دیگرے فوت ہو جاتی ہیں۔ والدین کی وفات کے بعد 3 بھائی اور 1 بہن کے حساب سے ترکہ کو تقسیم کر دیا گیا۔ بہن کا حصہ ادا کرنے کے بعد ایک بھائی کے مفقود الخبر ہونے کی بنا پر اس کی جائیداد کو دو بھائیوں نے عارضی طور پر آپس میں برابر کا تقسیم کر لیا۔ مگر اس کے بعد بھی تقریباً 24 سال مزید بھی گزر گئے ہیں۔ مگر اس مفقود الخبر بھائی کی زندہ یا مردہ ہونے کی کوئی خبر نہیں ہے۔ کل ملا کے تقریباً 33 سال گمشدگی کی حالت میں گزر چکے ہیں جس میں سے 30 سال والد کی وفات کے بعد کے ہیں۔ اب یہاں سوال یہ ہے کہ اس گمشدہ شخص کی وراثت کیسے تقسیم کی جائے گی؟ کیا اس کی جائیداد میں سے اس کی فوت شدہ بہن کے بچوں کو بھی حصہ ملے گا یا وہ صرف 2 بھائیوں اور ان کی اولاد میں ہی تقسیم ہو گی؟ مزید یہ کہ سائل کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے۔ وہاں پر سرکاری طور پر یہ قانون نافذ ہے کہ اگر کوئی بندہ گم ہو جائے تو پھر اس کی وراثت کو تقسیم کرنے کے لیے یہ دیکھا جاتا ہے کہ کیا وہ جنگل کی جانب جانے کی وجہ سے گم ہوا ہے یا پھر شہر کی طرف۔ اگر جنگل کی جانب گیا اور گم ہو گیا تو اس کی وراثت کو عرصہ 14 سال کے بعد قانونی طور پر ورثا میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور اگر شہر کی جانب گیا اور گم ہو گیا تو پھر 90 سال تک انتظار کیا جائے گا اس کے بعد قانونی طور پر اس کی وراثت تقسیم ہو گی۔ ایسی صورت میں کیا حکم ہے کہ بندے کے گم ہو جانے کے بعد 90 سال کی مدت پوری ہونے تک وہ زمین عارضی اور انتظامی طور پر صرف 2 بھائیوں کے درمیان ہی تقسیم کی ہوئی رہے گی اور اس سے ہر طرح کا فائدہ صرف وہ بھائی ہی لیتے رہیں گے یا اس میں سے فوت شدہ بہن کی اولاد کو بھی برابر حصہ دیا جائے گا؟ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں گمشدہ بھائی کے حصہ میں آنے والا ترکہ دیگر بھائیوں کے پاس امانت ہوگا، جسے ان کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا درست نہیں، جبکہ اپنے اپنے پاس باحفاظت محفوظ رکھنا ضروری ہے، یہاں تک کہ گمشدہ بھائی کی ولادت کے بعد سے اس کی عمر ساٹھ سال کو پہنچ جائے، ساٹھ سال کو پہنچنے کے بعد عدالت سے اس کی موت کا سرٹیفیکیٹ حاصل کیا جائے، عدالتی فیصلہ کے بعد گمشدہ بھائی کا حصہ اس کا ترکہ شمار ہوگا،اور جو اس کے ورثا میں حسب حصص شرعی تقسیم کرنا لازم ہوگا، جبکہ عدالتی فیصلہ سے قبل اس کے حصص کو باہم تقسیم کرنا درست نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الفتاوى الهندية: وإذا فُقد إنسان ولم يُعلم خبره ولم يُدر أحي هو أم ميت، لا يُقَسَّم ماله حتى يبلغ من السن ما يغلب على الظن موته، وقالوا: يُنتظر إلى تمام تسعين سنة من يوم ولادته الخ۔ (ج: 2، ص: 392، ط: دار الفکر)۔
وفی رد المحتار: والغائب الذي لا يُعلم له خبر، لا يُقسم ماله على ورثته إلا بعد الحكم بموته وقال في البحر: ولا يُحكم بموته حتى يبلغ سن من لا يعيش بعده غالبًا، وقدروه بستين سنة فأكثر الخ۔ (ج: 6، ص: 762، ط: دار الفکر)۔
وفی الفتاوى التاتارخانية: في المال المفقود صاحبه: يكون في يد من هو عليه أمانةً، ولا يجوز له التصرف فيه لنفسه ولا لغيره حتى يثبت موت صاحبه بحكم القاضي الخ۔ (ج: 19، ص: 161، ط: إدارة القرآن والعلوم الإسلامية)۔
وفی فتاوى قاضي خان: في الرجل يفقد في بعض الأسفار ولا يُعلم له خبر، لا يُقسم ماله ولا تُزوّج امرأته حتى يحكم القاضي بموته، ويُنتظر به حتى يبلغ سن من لا يعيش غالباً الخ۔( ج: 3، ص: 315، ط: دار الكتب العلمية)۔
وفی البحر الرائق: ولا يُقسم مال المفقود حتى يحكم القاضي بموته، ولا يُحكم بموته إلا إذا بلغ سناً لا يعيش الناس بعده عادةً، وقدره بعضهم بسبعين، وبعضهم بستين سنة، على حسب الغالب في الأعمار الخ۔ (ج: 8، ص: 519، ط: دار الكتاب الإسلامي)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالھادی شعیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72455کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =بیوہ, 2 بھائی 1 بہن)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =ایک بیوہ تین بیٹے دو بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات