کیا فر ماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والدصاحب کا انتقال ہو چکاہے ، جن کے ورثاء میں بیوہ ،دوبیٹے اور سات بیٹیاں موجود ہیں ، والد مرحوم نے اپنا مکان والدہ کے نام کردیاتھا،لیکن مالکانہ حقوق والدہ کو منتقل نہیں ہوئے تھے، اس صورت میں یہ مکان والد کا ترکہ شمار ہوگا یا نہیں ؟اور ایک بیٹا والد کی زندگی میں انتقال کر گیا تھا ، والد مرحوم کے ترکہ سے اس کی بیوہ کو حصہ ملے گا یا نہیں ؟
سائل کے والد مرحوم نے مذکورمکان فقط کاغذات میں اپنی بیوی کے نام کیا ہو ،اس پر اسے باقاعدہ قبضہ اور مالکانہ تصرف کا اختیار نہ دیا ہو جیسا کہ سوال سے بھی معلوم ہو رہاہے،تو ایسی صورت میں یہ ہبہ اور گفٹ شرعاًدرست نہ ہو نے کی وجہ سے مذکور مکان سائل کی والدہ کی ملکیت نہیں بنا تھا ، بلکہ بدستور والد مرحوم کی ملکیت رہا ،اور اب ان کے انتقال کے بعد وہ والد مرحوم کا ترکہ شمار ہوکر اس کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہو گا ، جبکہ جس بیٹے کا انتقال والد مرحو م کی زندگی میں ہوچکا ہے ، اس کا چونکہ والد مرحوم کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ،لہذا اس کی بیوہ بھی مرحوم شوہرکے توسط سے سسر کے ترکہ میں حقدار نہیں ،اور نہ ہی اسے دیگر ورثاء سے اس کے مطالبے کا اختیار حاصل ہو گا ،البتہ اگر مرحوم کے دیگر ورثاءاپنی مرضی سے انہیں کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے ، مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں ۔
اس کے بعد واضح ہوکہ والد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے موجود ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہو گا ، کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکورہ مکان سمیت جوکچھ منقولہ وغیرمنقولہ مال وجائیداد ، سونا چاندی ، زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلوسازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے وہ سب مرحوم کا تر کہ ہے ، جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں اگر مر حوم کے ذمہ کوئی قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو اس کو ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)حصہ کی حدتک اس پر عمل کرنے کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل اٹھاسی ( 88)حصے بنائے جائیں ،جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو گیارہ (11)حصے اور بیٹوں میں سے ہر ایک کو چودہ (14)حصے جبکہ ہر ایک بیٹی کو سات (7) حصے دیے جائیں -
فی الدرالمختار: (وركنها) هو (الإيجاب والقبول) (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل(کتاب الھبہ ج 5 ص688 ط:سعید)۔
وفی اعلاءالسنن:ورکنہاالایجاب والقبول،لان ملک الانسان لاینتقل الی الغیربدون تملیکہ والزام الملک علی الغیر لایکون بدون قبولہ (الی قولہ)والقبض لابدمنہ لثبوت الملک (الی قولہ)لاصحۃالعقد(کتاب الھبہ ج16 ص68ط:ادارۃالقرآن والعلوم الاسلامیۃ)۔
وفی ردالمحتار:(قولہ ھی علم باصول الخ) وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل(کتاب الفرائض ج6 ص758 ط:سعید