محمد بوٹا کا قضائے الٰہی سے انتقال ہو گیا ہے ، وارثوں میں اسکی 1 بیوہ ، 1 بیٹی ، 1بھائی، 2 بہنیں ہیں ، والدین کا بھی انتقال ہوگیا ہے اور دیگر کوئی اور وارث بھی نہیں ہے جبکہ محمد بوٹا کی کوئی نرینہ اولاد بھی نہیں ہے، اگر محمد بوٹا کی چھوڑی گئی وراثت و مال دولت وغیرہ کی کل مالیت 2 کروڑ روپے ہوں تو مذکورہ بالا ورثاء کا فی کس شرعی حصہ کتنا کتنا ہوگا؟رہنمائی فرمائیں ، والسلام !
مرحوم(محمد بوٹا) نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے ، مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کر یں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل سولہ(16) حصے بنائے جائیں، جن میں سے بیوہ کو چار(4) حصے، بیٹی کو آٹھ(8) حصے، جبکہ بھائی کو دو (2) حصے، اور ہر بہن کو ایک(1) حصہ دیا جائے -
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0