السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد مرحوم محمد صادق کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے ورثاء میں ایک بیوہ ، ایک بیٹا محمد سلیم اور تین بیٹیاں (شاہین ، کوثر، شمیم) موجود ہیں، والد مرحوم کا ترکہ مذکور ورثاء میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائیگا ؟ دادا ، دادی کا پہلے ہی انتقال ہو گیا تھا۔
صورتِ مسئولہ میں والدمسمی محمد صادق مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی ( 1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چالیس (40) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو پانچ(5) حصے، بیٹے کو چودہ(14) حصے ، جبکہ بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو سات(7) حصے دیے جائیں -