السلام علیکم ورحمۃ اللہ! شریعت اس مسئلہ کے بارے میں کیا کہتی ہے کہ: میرے ماموں کا انتقال ہوگیا ہے، وہ شادی شُدہ تھے، اور انکی کوئی اولاد نہیں ہے اور جس گھر میں وہ رہتے تھے، وہ انکے باپ کے نام ہے یعنی میرے نانا کی جائیداد ہے، کیا انکی یعنی میرے ماموں کی بیوہ کا اس جائیداد میں حصہ بنے گا یا نہیں؟ براہ کرم فتویٰ صادر فرمادیں۔ شکریہ
مذکور جائیداد اگرچہ سائل کے نانا مرحوم کی ہو، لیکن اگر سائل کے ماموں مرحوم کا انتقال نانا مرحوم کی وفات کے بعد ہوا ہو، تو ایسی صورت میں سائل کے مرحوم ماموں کی بیوہ اپنے شوہر کے توسط سے سائل کے نانا مرحوم کی جائیداد میں شرعاً حصہ دار ہوگی۔
کما قال اللہ تعالیٰ: ولھن الربع مما ترکتم ان لم یکن لکم ولد فان کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم من بعد وصیۃ توصون بھا او دین۔ الآیۃ (جزء4 سورۃ النساء/12)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2