ماں باپ کا انتقال ہوگیا ہے، چار بھائی اور آٹھ بہنیں ہیں، منقولہ و غیر منقولہ پراپرٹی کی تقسیم کے لئے فتویٰ چاہیئے۔
واضح ہو کہ مرحوم والدین کا ترکہ اصول میراث کے مطابق ان کے موجود ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومین نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے ، مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کر یں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل سولہ (16) حصے کیے جائیں، جن میں سے مرحومین کے ہر بیٹے کو دو(2) حصے، جبکہ ہر ایک بیٹی کو ایک(1) حصہ دیا جائے -