کیا فرماتے ہیں علماءکرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ہمارے والد کا انتقال ہو گیا ہے ، ورثاء میں ایک بیوہ ،دوبیٹے اور سات بیٹاں موجود ہیں ، والد کا ترکہ مکان وغیرہ مذکور ورثاء میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائیگا ۔
واضح ہو کہ سائل کے والد مرحوم کا تر کہ اصولِ میراث مطابق ان کے موجودہ ورثاءمیں اس طرح تقسیم ہوگاکہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور مکان سمیت جوکچھ منقولہ وغیرمنقولہ مال وجائیدادسونا ،چاندی ،زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض یابیوہ کاحق مہر واجب الادا ہو تو اسے ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کرنے کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل اٹھاسی(88 )حصے بنائے جائیں ،جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو گیارہ(11) حصے ،ہر بیٹے کو چودہ (14) حصے ،جبکہ ہر بیٹی کو سات (7) حصے دیے جائیں -