السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مجھے اپنے مسئلے کے لئے شرعی حل چاہیئے ، میری شادی کو چودہ(14) سال ہو چکے ہیں ، زیادہ عرصہ مسائل میں ہی گزرا، تین (3) بچے ہیں ، چھوٹی بیٹی چار (4) سال کی ہے، اس کی پیدائش کے کچھ دن بعد یعنی میرے شوہر چلہ میں چلے گئے،اور گھر سے باہر رہنے لگ گئے، اور چار سال سے اسی شہر میں رہتے ہوئے ایک رات بھی اپنے گھر کے بیڈ روم میں نہیں سوئے ، دن میں جتناوقت ہو اپنے والد کے ساتھ گزار کے اُن کے روم سے واپس باہرچلے جاتے ہیں ، بچوں کی ضرورت پوری نہیں کرتے ہیں، اور میرے سب حقوق روک رکھے ہیں ، نہ چار سال سے ازدواجی تعلقات قائم کیے نہ ہی جیب خرچہ ، اور نہ نان نفقہ نہ کپڑے اور نہ باقی ضرورت پوری کرتے ہیں، بہت سختی اور بد زبانی کرتے ہیں ، میرے والد اور بھائیوں کو گالیاں دیتے ہیں ، جب کہ میں چودہ (14) سال اُن کی جوائنٹ فیملی میں رہی، پانچ (5) مہینے پہلے سسرال والوں نے مجھے الگ کر دیا ، اب شوہر سے کچھ ضرورت کی چیزیں منگوا تی ہوں تو انکار کر دیتے ہیں ، کہتے ہیں تم ہی علیحدہ ہوئی ہواب تم بھگتو، ہر بات پر علیحدہ ہونے کا طعنہ دیتے ہیں ، مرضی کے خلاف کچھ ہو جائے تو سزا کے طور پر کچھ بھی بند کر دیتے ہیں ، پانچ (5) مہینوں سے بچوں کا اسکول بھی بند کیا ہوا ہے، کبھی میرے والدین کے گھر داخل نہیں ہوئےمجھے گلی میں ہی اُتار کر چلے جاتے ہیں ، میں بہت پریشان ہوں ڈپریشن ہوجاتا ہے، بچے جسمانی پریشانی میں ہے، میرے مسئلے کا کیا حل ہے؟ میں نے دیور کو بتایا لیکن سب خاموش ہیں کہتے ہیں یہ ضدی ہے ، شرعی لحاظ سے میری رہنمائی فرمائیں ، جزاک اللہ۔
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو تو سائلہ کے شوہر کا مذکور طرزِ عمل درست نہیں ، اس پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرزِ عمل سے باز آکر سائلہ کے حقوق ادا کرنے کی فکر کرے، جبکہ سائلہ کو بھی چاہیئے کہ از خود یا خاندان کے بڑوں کے ذریعے حکمت وبصیرت کے ساتھ اپنے شوہر کو سمجھانے اور مذکور رویہ سے باز رکھنے کی کوشش کرے ، اور ساتھ ساتھ اس کی اصلاح کے لئے دعاؤں کا بھی اہتمام کرے ، انشاءاللہ امید ہے کہ وہ اپنے مذکور طرز عمل سے باز آجائے ۔