آج کل لوگ قسطوں پر چیزیں دینےکا کاروبار کرتے ہیں ، مثلاً 50 ہزار کی خریدی ہوئی چیز قسطوں پر کچھ منافع رکھ کر دوسرے شخص کو فروخت کی جاتی ہے ، اس طرح کئی لوگ کاروبار کررہے ہیں ، کیا یہ شرعاًجائز ہے ؟ رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ ۔
نقد کے مقابلے میں ادھار یا قسطوں پر بیچنے کی صورت میں زیادہ قیمت وصول کرنا شرعاً جائز ہے ، اور یہ سود کے زمرہ میں بھی نہیں آتا ، مگر قسطوں پر معاملہ کرنے کی صورت میں درج ذیل شرائط کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے ، تاکہ شرعاً بھی یہ معاملہ جائز اوردرست ہو ، (1)اول مجلس عقد میں ہی یہ طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا (2)ہر قسط کی مالیت طے کر لیا جا ئے(3) یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل قسطیں کتنی ہونگی (4)کسی قسط کی تا خیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ مشروط نہ ہو ، چنانچہ ان شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوے قسطوں پر خرید وفروخت کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، ورنہ نہیں
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0