السلام علیکم ورحمۃ اللہ مفتی صاحب !
میری ر ہنمائی فرمائیں ،ہم 5 بھائی ہیں ، ہمارے والدین اب حیات نہیں ہیں، وراثت کی تقسیم ہونی ہے ،جس وقت میں دبئی میں مُلازمت کرتا تھا اُس وقت میں نے والدہ کو 15 لاکھ کے گولڈکے زیورات بنا کر دبے تھے، کیا اس گولڈ پرمیرے دوسرے (4) بھائیوں کا کوئی حق ہے یا یہ تمام گولڈ صرف میرے حصے میں آئے گا؟ اس لئے کہ سب جانتے ہیں کے یہ تمام گولڈ میری جانب سے ہی دیا گیا تھا والدہ کو۔آپ کے جواب کا متمنی
اگر اس حوالے سے کوئی لکھا ہوا فتوی بھی ہو تو بہتر ہوگا ، جزاک اللہ
سائل نے اگر مذکور زیورات اپنی والدہ کو مالکانہ قبضہ کے ساتھ گفٹ کر دیے تھے تو سائل کی والدہ ان زیورات کی مالک بن چکی تھی ، لہذا ان کے انتقال کی صورت میں مذکور تمام زیورات والدہ کے ترکہ میں شامل ہو کر تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوں گے ، جبکہ بوقت ضرورت ورثاء کی مکمل تفصیل لکھ کر شرعی تقسیم کا طریقہ کار معلوم کیا جاسکتا ہے ۔
کما فی بدائع الصنائع: وأما حكم الهبۃ (الی قولہ) أما أصل الحكم فهو ثبوت الملك للموهوب له في الموهوب من غير عوض الخ(ج 6 ص 127 ط:سعید)۔
وفی رد المحتار:تحت (قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة لأن التركۃ فی الاصطلاح ما ترکہ الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال الخ( ج 6 ص 759 ط:سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2