میرے والد کا انتقال ہوچکا ہے، ہم پانچ بہن بھائی ہیں: تین بھائی اور دو بہنیں، ہمارے والد کی دو جائیدادیں ہیں، ایک گھر اور ایک دکان ہے، دو بھائی گھر میں الگ الگ منزل میں رہتےہیں، جبکہ دو بہنیں اور ایک بھائی الگ گھر میں رہتے ہیں، دکان رینٹ پر ہے، کرایہ ایک لاکھ(100000)روپے ہے، اوپر دی گئی معلومات کی روشنی میں دکان کا کرایہ کس طرح تقسیم کیا جائے؟شکریہ
سائلہ کے والد مرحوم نے بوقتِ انتقال دیگر اشیاء کی طرح جو دکان اپنی ملکیت میں چھوڑی ہے، وہ بھی مرحوم کا ترکہ ہے جوکہ دیگر ترکہ کی طرح مرحوم کے تمام ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم ہوگا، البتہ اگر فی الحال تمام ورثاء مذکور دکان کو تقسیم کرنے کے بجائے اسے حسبِ سابق کرایہ پر باقی رکھنے پر رضامند ہوں، توایسی صورت میں دکان سے کرایہ کی مد میں حاصل ہونے والی رقم تمام ورثاء کے درمیان انکے حصوں کے بقدر تقسیم ہوگی، چنانچہ اگر سائلہ کے والد مرحوم کے ورثاء میں فقط تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہوں ان کے علاوہ اور کوئی وارث (بیوہ اور والدین وغیرہ) میں سے کوئی موجود نہ ہو، تو مذکور رقم (ایک لاکھ روپے) میں سے مرحوم کے ہربیٹے کو پچیس ہزار(25000) روپے، جبکہ ہر بیٹی کو ساڑھے بارہ ہزار(12500) روپے دیے جائیں گے ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2