السلام علیکم!
کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم تین بھائی اور پانچ بہنیں ہیں، والدہ کا انتقال ہو گیا ہے اور ہمارے والد صاحب کی ملکیت یعنی میراث کی زمین بڑے بھائی نے فروخت کردی (3000000) تیس لاکھ روپے میں اب مذکورہ رقم ہم 8 افراد وارثین کے درمیان تقسیم کی کیا صورت ہے ، بھائیوں اور بہنوں کے حصے میں کتنی کتنی رقم آئے گی ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب طلب ہےاور تقسیم نہ کرکے کوئی ایک تمام حصہ غصب کرنا چاہے تو اس کے متعلق کیا حکم ہے ؟
(نوٹ) زمین کے فروخت کرنے میں جو خرچہ ہوا کیا وہ کل ترکہ سے منہا ہو گا کیونکہ بھائی نے یہ خرچہ کیا ہے ، واپسی کے مطالبہ کے ساتھ کیا تھا ، یہ زمین بنگلہ دیش میں تھی۔
واضح ہو کہ ورثاء میں سے کسی وارث کا تقسیمِ میراث میں بلا وجہ رکاوٹ بننا یا تمام ترکہ پر قابض ہو جانا غصب کے زمرے میں آنے کی وجہ سے شرعاً ناجائز و حرام ہے ، جس پر احادیثِ مبارکہ وارد میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا مرحوم کے تمام ورثاء کو چاہیئے کہ اس رقم سمیت والد مرحوم کا کل ترکہ جلد از جلد شرعی ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کر کے مؤاخذۂ اخروی سے سبکدوشی کی فکر کرے، بصورتِ دیگر ورثاء کو اپنے حق کی وصولیابی کیلئے قانونی چارہ جوئی کا بھی اختیار ہے ، جبکہ جس بھائی نے زمین کی فروختگی کے لئے دیگر ورثاء کی باہمی رضامندی سے جو رقم واپسی کی صراحت کے ساتھ لگائی ہے، تقسیمِ ترکہ سے قبل وہ اس رقم کو منہا کر سکتا ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحوم والد کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور رقم سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی ( 1/3) حصہ کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کےکل گیارہ حصہ بنائے جائیں جن میں سے مرحوم کے بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو دو (2) حصے جبکہ بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو ایک (1) حصہ دیا جائے -
کما فی تنقیح الحامدیۃ: دفع إلی ابنہ مالا فارادہ أخذہ صدق أنہ دفعہ قرضا لأنہ مملک دفع إلیہ دراھم فقال أنفقھا ففعل فھو قرض (کتاب الدعوی ج 2 صـ 18 ط: دار المعرفۃ)
وفی مشکاۃ المصابیح: سید بن زید رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنہ یطوقہ یوم القیامۃ من سبع أرضین (کتاب البیوع باب الغصب والعاریۃ ج 1 صـ 442 ط: بشری)