کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسئلہ میں کہ ہمارے والد مرحوم ربنواز کا 2016 میں انتقال ہوا ، ورثاء میں دو بیٹے (رحمت اور اقبال) اور دو بیٹیاں (زینب اور فاطمہ) ہیں، جبکہ ہماری والدہ (حیات بی بی) کو والد مرحوم نے طلاق دے دی تھی ، اور مرحوم کی زندگی میں ہی انہوں نے دوسری شادی کرلی تھی، 2019 میں ہمارے بھائی (رحمت) کا انتقال ہوا، ورثاء میں بیوہ (جمیلہ) والدہ (حیات بی بی) بیٹی (النغمتہ) ، ایک بھائی (اقبال) اور دو بہنیں(زینب اور فاطمہ) حیات ہیں ۔ والد مرحوم کے نام ایک پلاٹ 222 گز کا ہے، اب یہ بتائیں کہ ہمارے والد مرحوم کی جائیداد تمام ورثاء میں شرعی اعتبار سے کیسے تقسیم ہوگی ؟
واضح ہو کہ سائل کے مرحوم والد کی میراث اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگی کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور پلاٹ سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو ساز سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعددیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو ،تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل دو سو اٹھاسی (288) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کے بیٹے کو ایک سو چھ ( 106) حصے ، ہر بیٹی کوترپن (53) حصے ، اوربہو کو بارہ (12) حصے، مطلقہ بیوی کوسولہ (16) حصے اورپوتی کواڑتالیس (48) حصے دیے جائیں -