کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والدین کے پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں، جن میں سے تین بیٹے اور ایک بیٹی والدین سے پہلے انتقال کر گئے تھے، جب والد کا انتقال ہوا ، اس وقت والد مرحوم کے ورثاء میں بیوہ ، دو بیٹے اور چار بیٹیاں حیات تھیں، پھر والدہ کا انتقال ہوا، اور یہی ورثاء بقید حیات موجود ہیں، والد مرحوم کے ورثاء کے درمیان ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا؟ اور جو بھائی اور بہنیں والد صاحب کی زندگی میں وفات پاگئے ہیں ، ان کا شرعی طور پر کوئی حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟
واضح ہو کہ والدین کی زندگی میں جن بیٹوں اور بیٹی کا انتقال ہوا ہے تو ان کو یا ان کی اولاد کو مرحوم والدین کی میراث میں سے شرعاً کچھ نہیں ملے گا ، البتہ اگر دیگر ورثاء ان کی اولاد کو بخوشی کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں ، لیکن ایساکرنا ان پر لازم نہیں ،
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والدین مر حومین کا ترکہ ان کے اپنے ورثاء کے درمیان اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومین نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد ، سونا چاندی ، زیورات ، نقدی رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحومین کا ترکہ ہے ، جس میں سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم والدین کے ذمہ کچھ قرض ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم والدین نے کوئی جائز وصیت کی ہو ، تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ، اس کی کل (8) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے ہر بیٹے کو دو (2) حصے ، اور ہر بیٹی کو ایک (1) حصہ دیا جائے -