ایک عورت اپنے باپ کی جائیداد میں حصہ پاتی ہے اور پھر اپنے ورثاء میں ایک بیٹی ، ایک بھائی اور دو بہنوں کو چھوڑ کر انتقال کرجاتی ہے ، اب اس کا ترکہ مذکور افراد میں کیسے تقسیم کیا جائے ؟
صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کے ورثاء اگر فقط یہی ہوں کوئی اور وارث نہ ہو تو ان کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ،سونا ، چاندی، زیورات ، نقدرقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، ان میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر ان کے ذمہ کوئی قرض واجب الادا ہوتو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل (8) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحومہ کی بیٹی کو (4) حصے ، بھائی کو (2 ) حصے ، جبکہ ہر ایک بہن کو ایک ایک (1) حصہ دیا جائے -