ہم 3 بھائی اور 2 بہنیں ہیں ، ہمارے پاس تجارتی وراثت میں ملی جائیداد ہے ، اس کی کچھ دکانیں کرائے پر ہیں ، اور ہم سب بھائی بہن اس کا کرایہ تقسیم کرتے ہیں ، میں اور میرے بھائی وراثت میں ملنے والی دکانوں میں کاروبار کرتے ہیں ، ہم ایک دوسرے کو اور بہنوں کو منافع میں سے کوئی حصہ نہیں دیتے اور نہ ہی ان وراثتی دکان کا کرایہ ادا کرتے ہیں جو ہمارے کاروبار کے زیرِ استعمال ہے۔
رہنمائی کی درخواست :
1۔ کیا ہم ذاتی کاروبار میں استعمال کے تحت جائیداد میں کرایہ ادا کرنے کے پابند ہیں یا نہیں ؟
2۔ ہم اس وراثت میں ملنے والی جائیداد کو عرصہ دراز سے استعمال کررہے ہیں ، کب سے کرایہ ادا کریں گے؟ ہمارے استعمال کے وقت سے یا ابھی سے؟
سائل اور اس کے بھائی کا کاروبار اگر ذاتی ہو، مرحوم والد کا ترکہ نہ ہو تو مذکور کاروبار اور اس سے حاصل ہونے والا منافع انہیں کا ہے، دیگر ورثا کا اس میں کوئی حق نہیں، البتہ ترکہ کی دکانوں میں ورثا کی اجازت اور رضامندی کے بغیر اپنا کاروبار کرنا درست نہیں، اور اب تک جو دکانیں زیرِ استعمال رہی ہیں، ان کا کرایہ تو لازم نہیں البتہ آئندہ کے لئے ورثا کی باہمی رضامندی سے ان دکانوں کا کرایہ طے کرلیا جائے، اور وہ کرایہ بھی تمام ورثا میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کیا جائے۔
کما فی الھندیۃ: لو تصرف احد الورثۃ فی الترکۃ و ربح فالربح للمتصرف وحدہ الخ ( کتاب الشرکۃ ج 2 ص 346 ط: ماجدیۃ )۔
و فی شرح المجلۃ: أما احد الشریکین إذا اسکن مدۃ فی الدار بدون اذن الآخر فھو ساکن فی ملک نفسہ فبھذہ الجھۃ لا یلزمہ اعطاء اجرۃ لاجل حصۃ شریکہ الخ ( المادۃ: 1075 )۔
و فیہ ایضاً: أحد الشریکین اذا آجر الاخر المال المشترک و قبض الاجرۃ یعطی الأخرۃ حصتہ منھا الخ ( المادۃ: 1077 ج 4 کتاب الشرکۃ ط: اسلامیہ )۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2