السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! جناب میری شادی کو 6 سال گزر گئے ہیں لیکن شادی کے ایک ماہ بعد ہی نہ گھر میں ٹائم دینا ، گھر کی ضروریات پوری کرنا بلکہ ایک گینگ نشہ بیچنا ہر عورت مرد کے پورے گروپ تھے اس لئے وہ غیر بیوی کچھ نہیں سمجھتے، میں نے کافی ٹائم یہ سب برداشت کیا آخر میں نے عدالت سے رجوع کیا , خلع کے لئے درخواست دی ، انہوں نے 3 سال اس کیس کو دیکھا اور اسی کیس میں بیوی بچوں کی ذمہ داری نہ اٹھاتے ہوئے ایک سال کے لئے جیل کر دیا اس دوران میں نے خلع بھی لے لیا اور عدت بھی کی ہے ، اور اب میں دوسری شادی کرنا چاہتی ہوں، کیا شرعاًاس کی اجازت ہے ؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جس کیلئے فریقین کے باہمی رضامندی اور با قاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے جو عموماً عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگریوں میں مفقود ہوتا ہے۔
چنانچہ سائلہ کے شوہر یا اس کی طرف سے مقرر کردہ وکیل نے عدالت میں حاضر ہو کر اس خلع کی ڈگری کو قبول نہ کیا ہو تو عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری ہونے کے باوجود سائلہ کا نکا ح ختم نہیں ہوا، بلکہ بدستور برقرار ہے، لہذا مذکور یکطرفہ خلع کی ڈگری کی بنیاد پر سائلہ کا دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا ، البتہ اگر شوہر واقعۃً نشئی ہو اور نان نفقہ وغیرہ ادا نہیں کر رہا ہو اور ہر ممکن کوشش اور سمجھانے کے باوجود وہ اپنی اس غلط طرزِ زندگی سے باز نہ آتا ہو تو ایسی صورت میں سائلہ اس کو طلاق بالمال یا شرعی خلع کے ذریعہ جدائی پر آمادہ کرے اور اس صورت میں سائلہ گناہ گار بھی نہ ہوگی، بصورتِ دیگر عدالت میں نان نفقہ نہ دینے کو بنیاد بنا کر خلع کے بجائے فسخِ نکاح کی درخواست جمع کرائی جائے اور قاضی بھی قانونی کاروائی کے بعد خلع کے بجائے فسخِ نکاح کی ڈگری جاری کرے، تاکہ عدت کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو۔
کما قال اللہ تعالی: وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا الآیۃ (آیتـ 20 سورۃ النساء)
وفی الدر المختار: (ومحلہ المنکوحۃ) وأصلہ زوج عاقل بالغ مستیقظ الخ ( کتاب الطلاق ج 3 صـ 230 ط: سعید)
وفیہ ایضاً: (اکرھھا) الزوج (علیہ تطلق بلا مال) لأن الرضا شرط للزوم المال وسقوطہ الخ (کتاب الطلاق باب الخلع ج 3 صـ 446 ط: سعید)
وفی بدائع الصنائع: وأما رکنہ فھو الإیجاب والقبول لأنہ عقد علی الطلاق بعوض فلا تقع الفرقۃ، ولا یستحق العوض بدون القبول الخ (کتاب الطلاق فصل فی رکن الطلاق ج 3 صـ 145 ط: دار الکتب العلمیۃ)
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1