تفریق و تنسیخ

لاپتہ و مفقود شوہر کے نکاح سے اس کی بیوی کو نکالنے کا شرعی طریقہ کار

فتوی نمبر :
73118
| تاریخ :
2024-05-13
معاملات / احکام طلاق / تفریق و تنسیخ

لاپتہ و مفقود شوہر کے نکاح سے اس کی بیوی کو نکالنے کا شرعی طریقہ کار

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بہن کی تین بیٹیاں ہیں، جن کے خرچ اخراجات کا کوئی انتظام نہیں ہے، جس کا شوہر تین سال سے لاپتہ ہے، اب ہم عدالت سے تنسیخِ نکاح کے بعد اپنی بہن کی دوسری جگہ شادی کرنا چاہتے ہیں جو ان بیٹیوں کے ساتھ مشکل ہے، لہٰذا اگر میری بہن دوسری جگہ شادی کرنے سے پہلے ہی ان بچوں کی پرورش کا حق ختم کرنا چاہے اور اس کی بیٹیاں ہم ان کی دادی کو دینا چاہیں تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو ، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل کا بہنوئی واقعۃً لاپتہ ہو تو اس صورت میں سائل کی بہن کےلئے اصل حکم یہ ہے کہ اگر وہ صبر کرکے اپنا زمانہ عفت اور پاک دامنی کے ساتھ گزارسکے تو بہتر ہے، اگر صبر نہ کرسکے تو بوقتِ ضرورتِ شدیدہ (کہ خرچ وغیرہ کا انتظام نہ ہوسکے یا بلا شوہر کے رہنے میں مبتلائے معصیت ہونے کا شدید خطرہ ہو) یہ گنجائش ہے کہ صورتِ ذیل اختیار کرکے مفقود کے نکاح سے رہائی حاصل کرے -
وہ صورت یہ ہے کہ عورت اپنا مقدمہ مسلمان جج کی عدالت میں پیش کرے اور شہادتِ شرعیہ کے ذریعہ ثابت کرے کہ میرا نکاح فلاں شخص کے ساتھ ہوا تھا، اس کے بعد گواہوں سے اس کا مفقود اور لا پتہ ہونا ثابت کرے کہ تقریباً تین سال سے میرا شوہر لاپتہ ہے اور اس نے کوئی نان نفقہ نہیں چھوڑا اور نہ کسی کو نفقہ کا ذمہ دار بنایا،اور میں نے اپنا نفقہ معاف بھی نہیں کیا اور عورت ان باتوں کو گواہوں کی گواہی سے ثابت کرے،اور اگر گناہ کا اندیشہ ہے تو عورت اس پر قسم بھی اٹھائے،اس کے بعد جج خود اپنے طور پر مفقود کی تفتیش و تلاش کرے، جہاں جہاں مفقود کے جانے کا غالب گمان ہو ،وہاں آدمی بھیجا جائے اور جس جس جگہ جانے کا غالب گمان نہ ہو ،وہاں اگر خط کو کافی سمجھے تو خطوط بھیجے اور اگر اخبارات میں شائع کردینے سے خبر ملنے کی امید ہو تو یہ بھی کرے، الغرض تفتیش و تلاش میں پوری کوشش اور جہدِ بلیغ کرے، اور جب تلاش کے بعد مفقود کا پتہ چلنے سے مایوسی ہوجائے تو عورت کو چار سال تک مزید انتظار کا حکم کرے، پھر ان چار سالوں کے اندر بھی مفقود کا پتہ نہ چلے تو عورت حاکم کے پاس دوبارہ درخواست پیش کردے جس پر حاکم اس کے شوہر کے مردہ ہونے کا فیصلہ سنادے، اس کے بعد چار ماہ دس دن عدتِ وفات گزار کر عورت کو دوسری جگہ نکاح کرنے کا اختیار ہوگا، اور اگر عورت عدالت میں زنا میں مبتلا ہونے کا شدید خطرہ ظاہر کرے اور اس نے ایک عرصہ دراز تک مفقود کا انتظار کرنے کے بعد مجبور ہوکر اس حالت میں درخواست دی ہو، جبکہ وہ صبر سے عاجز آگئی ہو تو اس صورت میں اس کی بھی گنجائش ہے کہ ایک سال کے انتظار کے بعد تفریق کردی جائے اور صورتِ مسئولہ میں یہ تفریق طلاقِ بائن کہلائے گی،البتہ حاکم کے پاس جانے سے قبل جو وقت گزار دیا، اس کا اعتبار نہ ہوگا، نیز عورت حاکم کے فیصلہ کے بغیر خود بخود سابق شوہر کے نکاح سے علیحدہ نہیں ہوسکتی اور حاکم کے پاس جب درخواست دے تو حاکم پوری تحقیق کرے اور خود بھی تلاش کرے، اس کے انتظار کی مہلت دے، پھر مہلت کی مدّت ختم ہوجانے پر مذکورہ بالا طریقہ اختیار کرے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق اگر سائل کی بہن عدالت سے اپنا نکاح فسخ کروا کر عدت گزارنے کے بعد ان بچیوں کی پرورش سے دستبردار ہونا چاہے تو ہو سکتی ہے، چنانچہ اس دستبرداری کے بعد پھر نانی کو حقِ پرورش حاصل ہوگا، لیکن اگر نانی نہ ہو یا وہ بھی اس کیلئے آمادہ نہ ہو تو ایسی صورت میں پھر ان بچیوں کی دادی کو حقِ پرورش حاصل ہوگا، لہٰذا اگر سائل کی بہن اور والدہ ان بچیوں کو ان کی دادی کے حوالہ کرنا چاہیں تو کرسکتی ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الحیلۃ الناجزۃ: طریق تطلیق زوجۃ المفقود أو الغائب الذی تعذر الإرسال إلیہ أو ارسل الیہ فتعاند إن کان لعدم النفقۃ فإن الزوجۃ تثبت بشاھدین، إن فلاناً زوجھا، وغاب عنھا، ولم یترک لھا نفقۃ، ولا وکیلاً بھا ولا اسقطتھا عنہ، وتحلف علٰی ذٰلک، فیقول الحاکم: فسخت نکاحہ أو طلقتک منہ أو یأمرھا بذٰلک، ثم یحکم بہ، وھٰذا بعد التلوم بنحو شھر أو بإجتھادہ عند المالکیۃ، وفوراً أو متراخیاً عند الحنابلۃ، وبعد ثلاثۃ أیام عند الشافعیۃ، وإن کان لخوفھا الزنا وتضررھا بعدم الوطئ والعنا مع وجود النفقۃ والغنا فبعد صبرھا سنۃ فأکثر عند جلّ المالکیۃ، وبعد ستۃ أشھر عند الحنابلۃ اھ (صـــ134،ط:دار الاشاعت)۔
وفی الدر المختار: إنما يحكم بموته بقضاء لأنه أمر محتمل، فما لم ينضم إليه القضاء لا يكون حجة اھ (ج4،صـــ297،ط:سعید)۔
وفی الھدایۃ: وتکون الفرقۃ تطلیقۃ بائنۃ عند ابی حنیفۃ ومحمدؒ لأن فعل القاضی انتسب الیہ کما فی العنین اھ (ج2،صـــ271)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم (إلی قولہ) وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت كذا في فتح القدير (إلی قولہ) فإن ماتت أو تزوجت فالأخت لأب وأم، فإن ماتت أو تزوجت فالأخت لأم (إلی قولہ) وخالة الأم أولى من خالة الأب عندنا، ثم خالات الأب وعماته على هذا الترتيب كذا في فتح القدير. والأصل في ذلك أن هذه الولاية تستفاد من قبل الأمهات فكانت جهة الأم مقدمة على جهة الأب كذا في الاختيار شرح المختار اھ (ج1،صـــ541،ط:ماجدیۃ)۔
وفی التنویر مع الدر: (والحاضنۃ) أما أو غیرھا (أحق بہ) أی بالغلام حتی یستغنی عن النساء وقدر بسبع، وبہ یفتی لأنہ الغالب (إلی قولہ) (والأم والجدۃ) لأم أو لأب (أحق بھا) بالصغیرۃ (حتی تحیض)…..(وغیرھما أحق بھا حتی تشتھی) وقدر بتسع، وبہ یفتی اھ (ج3، صـــ566،ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سفیان رشید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73118کی تصدیق کریں
0     1034
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کیابدکاری کی تہمت لگانےسے نکاح ختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • کلمۂ کفر کہنے سے نکاح ٹوٹنے کا حکم

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 1
  • عدالتی خلع کا متبادل-ایصالِ ثواب

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • حقوق زوجیت پر قادر نہ ہونے والے شخص کا طلاق کے بعد مہر نہ دینا

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • شوہر کے ساتھ نکاح کے برقرار ہوتے ہوئے کسی غیر مرد کے ساتھ رہنا

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • زوجہ متعنت کیلئے کیا حکم ہے ؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • بیوی کے ساتھ جماع پر قادر نہ ہونے والے شوہر سے علیحدگی کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • بیوی کے حقوق ادا نہ کرنے والے شوہر سے علیحدگی کیسی حاصل کی جائے ؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • شوہر حقوق ادا نہ کرے تو کیا بیوی خلع لے سکتی ہے

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • ظالم شوہر کے خلع یا طلاق نہ دینے کی صورت میں عدالت سے خلاصی کا طریقہ

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 3
  • کیا طویل عرصہ ازدواجی تعلقات قائم نہ کرنے کی وجہ سےطلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 1
  • شوہر کا بیوی کے حقوق ادا نہ کرنا

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 2
  • لاپتہ و مفقود شوہر کے نکاح سے اس کی بیوی کو نکالنے کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • جادو کروانے والی عورت کا نکاح باقی رہتا ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • انجانے میں بیوی کو ”ماں“ کہہ دینے سے نکاح پر کیا اثر ہوگا؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • کن چیزوں سے نکاح از خود ٹوٹ جاتا ہے؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • بیوی کو بہن بولنے سے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • کیامیاں بیوی کےالگ رہنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • کیا میاں بیوی کا ازدواجی تعلق کے بغیر ایک ساتھ رہنےسے نکاح ختم ہوجاتا ہے؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • بیوی کا شوہر کو بھائی جیسا کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • نومسلمہ لڑکی کانکاح کے بعد مرتد ہو جانے سے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • طلاق یا خلع دیے بغیر محض الگ رہنے سے کیا نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • بیوی کا لاعلمی میں کلمۂ کفر کہنے سے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
  • نکاح کے بعد شوہر رخصتی کرے ، نہ طلاق دے تو عورت کیا کرے ؟

    یونیکوڈ   تفریق و تنسیخ 0
Related Topics متعلقه موضوعات