ترجمۃ :السلام علیکم ! میری شادی کم ازکم پانچ سال قبل ہوچکی ہے اور شادی کی پہلی ہی رات کو مجھے اس بات کا علم ہوا کہ میرے شوہر میں مردانہ کمزوری کا مسئلہ ہے ،جس کی وجہ سے وہ کچھ کر نہیں سکتا ہے, تو لہذا دوسرے ہی دن میں نے اپنی ساس اور اپنی ماں کو اس بات کابتایا لیکن گھروالوں نے میرے شوہر کو علاج کا مشورہ دیا ,اب چار سال ہوگئے ، اور ہرطریقہِ کارعلاج کروایا لیکن کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں آیا اور میں اب یہ سب برداشت نہیں کرسکتی , جبکہ خاندان اور معاشرے کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید مجھ میں مسئلہ ہے ,جبکہ میرے میڈیسن رپورٹ بالکل کلیئر ہیں ماشاء اللہ ،میرے شوہر میں مسئلہ ہے ، برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ اسلام اورشریعت میں اسکا کیا حکم ہے ؟اور مجھے تحریری فتویٰ جاری کیا جاۓ ،جزاک اللہ خیراً۔
سائلہ نے سوال میں یہ وضاحت نہیں کی کہ اس کے شوہر نے نکاح کے بعد جماع و ہمبستری کی ہے یا مرادانہ کمزوری کی وجہ سے وہ بالکل ہمبستری پر قادر نہ ہوسکا ،تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر سائلہ کا شوہر حقوقِ زوجیت کی ادائیگی پر قادرنہ ہو اور علاج و معالجے کے باوجود ایک مرتبہ بھی ہمبستری نہ کی ہو اور سائلہ اس کے ساتھ رہنے پر رضامندبھی نہ ہو ,تو سائلہ کے شوہر کو چاہیئے کہ وہ طلاق یا خلع کے ذریعے سائلہ کو اپنے نکاح کے بندھن سے آزاد کردے ,تاکہ وہ اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرکےعفت و پاکدامنی کیساتھ زندگی بسر کرسکے ،لیکن اگر شوہر طلاق یاخلع کیلئے آمادہ نہ ہو توایسی صورت میں سائلہ بذر یعۂ عدالت حقوقِ زوجیت پر قدرت نہ رکھنے کی بنیاد پر اپنا نکاح شرعی طریقہ کار کے مطابق فسخ کرواسکتی ہے ۔
فی الھندیۃ : جاءت المرأة إلى القاضي بعد مضي الأجل و ادعت أنه لم يصل إليها و ادعى الزوج الوصول ، فإن كانت ثيبا في الأصل كان القول قوله مع اليمين ، فإن حلف بطل حقها ، و إن نكل خيرها القاضي ، و إن قالت المرأة أنا بكر نظر إليها النساء ، و الواحدة تكفي و الثنتان أحوط فإن قلن هي ثيب كان القول قوله مع اليمين ، و إن قلن هي بكر أو أقر الزوج أنه لم يصل إليها خيرها القاضي في الفرقة كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان . فإن اختارت زوجها أو قامت عن مجلسها أو أقامها أعوان القاضي أو قام القاضي قبل أن تختار شيئا بطل خيارها كذا في المحيط . و هكذا روي عن محمد رحمه الله تعالى و عليه الفتوى كذا في التتارخانية ناقلا عن الواقعات إن اختارت الفرقة أمر القاضي أن يطلقها طلقة بائنة فإن أبى فرق بينهما هكذا ذكر محمد رحمه الله تعالى في الأصل كذا في التبيين و الفرقة تطليقة بائنة كذا في الكافي و لها المهر كاملا و عليها العدة بالإجماع إن كان الزوج قد خلا بها ، و إن لم يخل بها فلا عدة عليها و لها نصف المهر إن كان مسمى و المتعة إن لم يكن مسمى كذا في البدائع.(1/524)۔
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1