والد کے انتقال کے بعد ورثاء میں وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟ ورثاء 2 بیٹے اور 1بیٹی ہے ، بیوی اور بیٹی کا انتقال والد سے پہلےہو چکا ہے ، تقسیم کا طریقہ کار اور بیٹی کے حصے کے بارے میں رہنمائی فرمائیں بیٹی کی دو بیٹیاں اور شوہر حیات ہیں ۔
واضح ہو کہ جس بیٹایا بیٹی کا اپنے والدین کی زندگی میں انتقال ہو جائے تو اس کا یا اسکی اولاد کا والدین مرحومین کی میراث میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوتا ، لہذا صورتِ مسؤلہ میں مرحوم کی جس بیٹی کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہوا ہے ، اس کے شوہر اور اولاد کا مرحوم نانا کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ، اور نہ ہی وہ اس کا مطالبہ کر سکتے ہیں ، البتہ اگر مرحوم کے دیگر ورثاء اپنی مرضی سے انہیں کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے ، لیکن ایسا کرنا ان پر لازم نہیں
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصول میراث کے مطابق ان کے موجود ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہو گا ، کہ مرحومین نے بوقتِ انتقال جوکچھ منقولہ وغیرمنقولہ مال وجائیداد ، سونا چاندی ، زیورات نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلوسازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا وہ سب مرحوم کا تر کہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں اگر مر حوم کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو تو اس کو ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حدتک اس پر عمل کرنے کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل دوحصے بنائے جائیں جن میں سے مرحومین کے ہر بیٹے کو ایک ایک حصہ دیا جائے -
کما فی التفسیر الکبیر:تحت قولہ(لِلرِّجالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوالِدانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّساءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوالِدانِ وَالْأَقْرَبُونَ الایۃ)انہ تعالیٰ قال فی الاخر الایۃ(نَصِيباً مَفْرُوضاً )أَيْ نَصِيبًامُقَدَّرًا،وَبِالْإِجْمَاعِ لَيْسَ لِذَوِي الْأَرْحَامِ نَصِيبٌ مُقَدَّرٌ، فَثَبَتَ أَنَّهُمْ لَيْسُوا دَاخِلِينَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ،الخ(سورۃالنساء الایۃ ج7 ص158 ط:دارالکتب)۔
وفی ردالمحتار:(قولہ ھی علم باصول الخ) وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل(کتاب الفرائض ج6 ص758 ط:سعید)۔