ایک شخص مسمی سہیل ولد محمد مسکین جس کا انتقال 2017 دسمبر میں ہوا، جو گورنمنٹ ملازم تھا، ہم نے اس کے محکمے سے رابطہ کیا (family assistance package) (تعاون فنڈ) کے سلسلے میں , اس کی بیوہ اور بیٹی کے لئے، انہوں نے چند کاغذ مانگے- Death certificate- شناختی کارڈ بیوہ کا (اقراء) - برتھ سرٹیفکٹ بچی کا (شمائلہ سہیل) -حلف نامہ، جس میں درج تھا کہ بیوہ باقی زندگی بیوہ بن کر زندگی بسر کرےگی ، ( چسپاں ہے) فنڈ بیوہ اقراء کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوگئے اور بیوہ نے دوسری شادی کرلی فنڈ آنے کےفوراً بعد، کیا اب سارا فنڈبیٹی (شمائلہ) کا ہوگا؟ چونکہ حلف نامہ کی خلاف ورزی ہوئی ہے،یا بیوی اور بیٹی دونوں کا ہوگا؟ سرکاری فنڈ ہے،اور سرکار دوسری شادی کی صورت میں صرف بچوں کو ہی دیتی ہےفنڈ، شرعی رہنمائی فرمائیں۔ چونکہ (کتاب الفرائض ج 6 ، ص 342، ط:مکتبہ دار العلوم کراچی) میں واضح کیا گیا ہے کہ تبرع و احسان کا سرکار کو حق ہے،کہ وہ جسے چاہے اسے دے،اور یہاں سرکار کے حساب سے پورا بچی کا ہے کیونکہ بیوہ دوسری شادی کر چکی ہے۔
نوٹ:سرکار کی طرف سے ملنے والے فنڈز میں ، پراویڈنٹ فنڈ، گروپ انشورنس،اور پرائم منسٹر اسٹنٹ فنڈ شامل ہے،پرائم منسٹر فنڈ میں ملازم کو زندگی میں پلاٹ ملتا ہے، چونکہ مرحوم نے نہیں لیا تھا، مرحوم کے انتقال کے بعد ادارہ نے اس فنڈ کے تحت پچاس لاکھ روپے دیے ، تو اب کس کی ملکیت شمار ہوگی، جبکہ سوال میں مذکور ادارہ کی شرط ہے کہ بیوہ اگر دوسری شادی کرے تو فنڈ اس کو نہیں ملتا،اس کا کیا حکم ہوگا؟ مذکور شخص سی ایم ایچ میں ملازم تھا۔
نوٹ : سا ئل سے بذریعہ فون معلوم ہوا کہ ان کو ٹوٹل ساٹھ لاکھ روپے ملے ہیں، جن میں سے پچاس لاکھ پرائم منسٹر فنڈ ، اور دس لاکھ انشورنس کمپنی سے ملے ہیں ، ، اور یہ رقم مرحوم کی زوجہ اور بیٹی دونوں کو دی گئی ہے، اور کاغذات میں دونوں کا نام درج ہے ، کمپنی کی طرف سے پرائم منسٹر فنڈ سے جو پلاٹ دیاجاتا ہے وہ بطور ہبہ اور گفٹ کے دیا جاتا ہے ، اگر وہ زندگی میں نہ لے تو اس کی اولاد اور بیوی کو اختیار دیا جاتا ہےکہ وہ پلاٹ لیں یا پلاٹ کے بدلے رقم لیں، اور اس پلاٹ کے بدلے تنخواہ سے پیسے نہیں کاٹے جا تے، بلکہ الگ سے ہدیہ کے طور پر دیا جاتا ہے۔
نوٹ: مرحوم سی ایم ایچ (C M H) میں ملازم تھے، اور اس کی بیوہ نے مرحوم کے بھائی یعنی اپنے دیور سے شادی کی ہے، لیکن اس کی ناراضگی کی وجہ سے والدین کے ہاں بیٹھ گئی ہے، اور اپنا حصہ مانگ رہی ہے، تو کیا گورنمنٹ ضابطہ کے مطابق وہ اس حصہ کی حقدار ہے یا دوسری شادی کی وجہ سے اس کا حق ختم ہو چکا؟
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق جس وقت حکومت کی طرف سے مذکور فنڈ بیوہ اور بچی کے نام جاری ہواتھا، اس وقت چونکہ بیوہ نے دوسری شادی نہیں کی تھی ، اور متعلقہ ادارہ نےفنڈ بیوہ اور بچی دونوں کے نام جاری کر دیا تھا،اس لئے مذکور فنڈ بیوہ اور بچی کے درمیان برابر تقسیم ہوگا، البتہ بیوہ کیے گئے معاہدہ کی خلاف ورزی کی وجہ سے اگرچہ گنہگار ہوئی ہے، لیکن اس کی وجہ سے وہ اس حق سے محروم نہیں ہوگی،جبکہ گروپ انشورنس کی مد میں جو رقم ملی ہے، اس کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ مرحوم کی زندگی میں ادارے نے ملازم یا اپنی طرف سے جتنی رقم جمع کرائی تھی ، اتنی رقم لینا تو شرعاً جائز ہے، اور اس رقم میں میراث بھی جاری ہوگی، البتہ زائد رقم چونکہ سودی ہے،لہذا زائد رقم اپنے استعمال میں لانے کے بجائے مستحقِ زکوۃ افراد پر صدقہ کردی جائے۔
كما في الهداية : الهبة عقد مشروع لقوله صلی اللہ علیہ وسلم: "تھا دوا تحابوا " وعلى ذلك انعقد الإجماع وتصح بالإيجاب والقبول و القبض ،اما الإیجاب والقبول فلانہ عقد والعقد ينعقد بالایجاب والقبول، والقبض لا بد منه لثبوت الملك اھ ( كتاب الہبہ، ج3، ص 285،ط:رحمانیہ)۔
وفي الدر المختار : (و) حكمها ( انها لا تبطل بالشروط الفاسدة ) فهبة عبد على أن يعتقه تصح ويبطل الشرط اھ (كتاب الہبة، ج ۵، ص288، ط؛سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2