کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ حسین کے دادا شعیب نے اس دور میں کسی مصلحت کی بنا پر اپنی ساری زمین اپنے بڑے بیٹے قاسم کے نام کی ، حالانکہ اس زمین سے اپنے دوسرے بیٹوں کو محروم نہیں کیا ، بلکہ وہ سارے مل کر اس کو آباد کرتے تھے اور اپنا پورا گھر فیملی کا خرچہ برداشت کرتے تھے ، جب شعیب کی وفات ہوئی تو قاسم نے جو شعیب کا بڑا بیٹا ہے ، اس نے اپنے دوسرے بھائیوں علی محمد، عبداللہ اور یوسف کو زمین کا حصہ تقسیم کر کے دیا ، لیکن بہنوں کو حصہ نہیں دیا۔ پھر قاسم کی وفات ہوئی تو اس کی زمین اس کی اولاد کو چلی گئی اور وہ اس کو آباد کرنے لگے ، علی محمد کی زمین علی محمد کی وفات کے بعد علی محمد کی اولاد کو ملی اور عبداللہ کی وفات کے بعد عبداللہ کی زمین اس کے بیٹے حسین کو وراثت میں ملی , حسین نے اس زمین کو سنبھالا تقریبا 20سے 30 سال تک اور اس میں سے کچھ زمین بیچی بھی تھی ، اب سوال یہ ہے کہ یہ جو تقسیم ہوئی تھی ، یعنی قاسم نے جو اپنے بھائیوں کو زمین دی تھی ، کیا وہ تقسیم نافذ ہو گئی ؟ کیا وہ تقسیم معتبر ہے یا نہیں ؟ اب حسین کی وفات کے بعد جو حسین کے پاس زمین ہے ، وہ اس کے شرعی وارثوں کو ملے گی ، یا کھاتے کی وجہ سے قاسم کی اولاد اور پوتوں کو ملے گی شریعت مطہرہ کی روشنی میں یہ واضح فرمائیں
تنقیح۔حسین ایک ہی بیٹا تھا عبداللہ کا ، باقی اولاد نہیں تھی ۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق جب مسمی حسین کے دادا مسمی شعیب نے اپنی زمین اپنے بڑے بیٹے مسمی قاسم کے فقط نام کی تھی ، با قاعدہ مالکانہ حقوق کے ساتھ اس کے حوالہ نہیں کی تھی تو وہ زمین بدستو رمسمی شعیب کی ملکیت میں رہ کر اس کے انتقال کی صورت میں اس کے تمام ورثاء کے درمیان تقسیم کرنا شر عاً لا زم تھا، چنانچہ مسمی قاسم نے اپنی بہنوں کو ترکہ سے محروم رکھ کر جو تقسیم کی تھی، وہ شرعاً درست تقسیم نہیں ہوئی ، بلکہ مسمی شعیب کے پوتوں کو چاہیئے کہ اپنےمرحوم دادا کی میراث میں اپنی پھوپھیوں اور ان کے انتقال کی صورت میں ان کے شرعی ورثاء کو ان کا شرعی حصہ دیکر اپنے والدین کو اخروی پکڑ سے بچانے کی فکر کریں، جبکہ شرعی تقسیم کا طریقہ کار معلوم کرنا ہو تو مسمی شعیب کے تمام ورثاء کی مکمل تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ جمع کرا دیں ، تو ان شاء الله غور وفکر کے بعد حکم شرعی سے آگاہ کر دیا جائیگا ۔
كما في الدر المختار : و شرائط صحتها ( في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول الخ ( كتاب الهبة ، ج ۵ ، ص 688 ،ط : سعید)-
وفيه أيضا : ( وتتم ) الهبة ( بالقبض) الكامل الخ ( كتاب الهبة ، ج ۵، ص 690، ط : سعيد )-
و في رد المحتار تحت ( قوله بالقبض) فيشترط القبض قبل الموت ولو كانت في مرض الموت للأجنبي الخ ( كتاب الهبة ، ج ۵، ص 690 ، : سعید)-
و فيه أيضا تحت ( قوله إلا أن يصطلحا ) إن شرط الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث الخ (كتاب الفرائض ، ج 6 ، ص ۷6۹ ، : سعید)-
و فيه أيضا : تحت ( قوله هي علم بأصول الخ ) وشروطه ثلاثة : موت المورث حقيقة أو حكما ( إلى قولة) و وجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا کا لحمل الخ ( کتاب الفرائض ، ج 6 ، ص ۷۵ : سعید)-
و في تكملة رد المحتار: الإرث جبرى لا يسقط بالإسقاط (ج 7 ، ص ۵.۵ ط س: سعيد)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0