میری مرحومہ بہن کے نام پراپرٹی ہے ، جس کی کوئی اولاد نہیں ہے ، اور ہم اس کے دو بھائی ہیں ، میرے بہنوئی کا انتقال میری بہن کے انتقال کے بعد ہوا ہے ، میرے بہنوئی کے دیگر بہن بھائی کا انتقال بھی میرے بہنوئی کے انتقال سے کافی وقت پہلے ہو چکا ہے ، کیا شریعت کی رو سے میرے بہنوئی کے بہن بھائی کے بچے میرے بہنوئی کے اس حصہ میں حقدار ہوں گے جو میری بہن کی پراپرٹی سے میرے بہنوئی کو ملا تھا ؟
صورت مسئولہ میں سائل کے بہنوئی مرحوم کو اپنی مرحومہ بیوی کے ترکہ سے ملنے والے حصہ میں بہنوئی کے بھتیجے حسبِ حصصِ شرعیہ حقدار ہونگے ،جبکہ تقسیم کا طریقہ کار معلوم کرنے کےلئے ورثاء کی مکمل تفصیل لکھ کر ارسال کردیں ،ان شاءاللہ غور و فکر کے بعد حکم شرعی سے آگاہ کردیا جائیگا ۔
کما فی السراجی فی المیراث : اما العصبۃ بنفسہ فکل ذکر لاتدخل فی نسبتہ الی المیت انثی و ھم اربعۃ اصناف : جزء المیت ، و اصلہ ، و جزء ابیہ ، و جزء جدہ الاقرب فالاقرب یرجحون بقرب الدرجۃ اعنی اولٰھم بالمیراث جزء المیت ای البنون ثم بنوھم و ان سفلوا ثم اصلہ ای الاب ثم الجد ای اب الاب و ان علا ثم جزء ابیہ ای الاخوۃ ثم بنوھم و ان سفلوا لخ ( صـ 14 باب العصبات ط : قدیمی کتب خانہ ) ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2