محترم مفتی صاحب : میری خالہ وفات پاچکی ہے،وہ بیوہ تھی اور ان کا صرف ایک بیٹا تھا،اس کی عمر تقریباً34 سال ہے لیکن وہ ذہنی طور پر معذور ہے،اس کے والد صاحب کے رشتہ داروں کی جانب سے اس کی دیکھ بھال میں کوئی دلچسپی نہیں،میری خالہ کی وفات کے بعد اس کے بھائیوں نے اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری لے لی ہے،ان کی وفات کے وقت میری خالہ کے دوبھائی اور دو بہنیں حیات تھیں،جبکہ ایک بہن کا پہلے ہی انتقال ہوچکاہے،سوال نمبر 1 ـ دماغی معذور بیٹے کومیراث میں اپنا حصہ ملے گا یا نہیں؟اگر ملے گا تواس کا کتنا حصہ ہوگا؟ سوال نمبر 2 ـکیابھائیوں کو حصہ ملے گا؟اگر ملے گا تو کتنا ؟ سوال نمبر 3 ـ کیا بہنوں کو حصہ ملے گا؟اگر ملے گا تو کتنا؟ سوال نمبر 4 ـ انتقال کردہ بہن(جس کا میری خالہ سے پہلے انتقال ہوچکا تھا)کی اولاد کا ترکہ میں کوئی حصہ ہے؟ میں قرآن وسنت کی روشنی میں مؤدبانہ ان سوالات کے جوبات کی درخواست کرتاہوں ۔جزاک اللہ خیرا
واضح ہوکہ محض ذہنی معذوری کی وجہ سے کوئی وارث اپنے حصۂ میراث سےمحروم نہیں ہوتابلکہ حسب ضابطہ اپنے حصۂ شرعیہ کاحقدار ہوتاہے،تاہم اس کے حصے کی دیکھ بھال وغیرہ کی ذمہ داری اس کے کفالت کرنے والےکسی امانت دار شخص کے ذمہ لازم ہوتی ہے،لہذا اب سائل کی خالہ مرحومہ کے انتقال کے بعد اگر صرف یہ معذور بیٹا ہی اس کاوارث ہو اس کے علاوہ مرحومہ کےدیگر اولاد نہ ہواور نہ ہی والدین اور شوہر میں سے کوئی حیات ہوتو ایسی صورت میں مرحومہ کے ترکہ میں سے حقوق مقدمہ علی المیراث (کفن دفن کے متوسط مصارف،واجب الاداءقرضوں کی ادائیگی،اور اگر کوئی جائز وصیت کی ہوتو ایک تہائی کی حدتک اس پر عمل) کے بعد جو کچھ بچ جائےوہ سارا کاسارا اس کے معذور بیٹے کی ملکیت ہے،اس میں دیگر لوگوں (مرحومہ کے بہن بھائیوں یاان کی اولاد)کاشرعاً کوئی حصہ نہیں اور نہ ہی وہ اس کامطالبہ کرسکتے ہیں ،البتہ معذور کے جو ماموں اس کی دیکھ بھال کررہے ہیں یہ مال ان کے پاس بطور امانت رہے گااور اسی سے معروف طریقۂ کارکے مطابق معذور شخص کےبنیادی اخراجات کی ادائیگی کی جائیگی۔
کماقال اللہ تعالیٰ: ولاتؤتوا السفھآء اموالکم التی جعل اللہ لکم قیٰما وارزقوھم فیھا واکسوھم وقولوا لھم قولا معروفا الآیۃ (النساء: 5)۔
وفی السراجی فی المیراث: اما العصبۃ بنفسہ فکل ذکر لاتدخل فی نسبتہ الی المیت انثی و ھم اربعۃ اصناف: جزء المیت و اصلہ و جزء ابیہ و جزء جدہ الاقرب فالاقرب یرجحون بقرب الدرجۃ اعنی اولٰھم بالمیراث جزء المیت ای البنون ثم بنوھم و ان سفلوا الخ (صـ 14 باب العصبات ط: قدیمی کتب خانہ)۔
وفی الدرالمختار: (وتصرف الصبی و المعتوہ )الذی یعقل البیع و الشراء ( ان کان نافعا ) محضا ( کالاسلام و الاتھاب صح بلااذن الخ ( ج 6 صـ 173 کتاب الحجر ط : ایچ ایم سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2