کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا بڑابھائی والد کی زندگی میں ہی الگ ہوگیا تھا ،پھر والد صاحب بیمار ہوئے اور ان پر تقریباً پندرہ لاکھ روپے تک خرچ ہوئے وہ میں نے اور میرے چھوٹے بھائی نےخرچ کیے ،اب ہمارا بڑابھائی والد کے ترکہ سے حصہ مانگ رہاہے ،جبکہ وہ والد کی زندگی ہی میں الگ ہوگیاتھا اور والد کی بیماری میں بھی کوئی تعاون نہیں کیا ،تو کیا اس کو والد کی وراثت میں حصہ ملے گا یا نہیں ؟ جبکہ والد اپنی زندگی میں یہ وصیت کرکے گئے ہیں کہ اگر بڑابھائی میری جائیداد سے حصہ مانگے تو اس سے میری بیماری کا خرچ بھی وصول کریں ۔
نوٹ : ورثاء میں بیوہ ،تین بیٹے اور دو بیٹیاں موجود ہیں ۔
سائل اور اسکے چھوٹے بھائی نے والد مرحوم کی بیماری پہ جو پندرہ لاکھ روپے خرچ کیے ہیں،اگر خرچ کرتے وقت قرض کی یا ترکہ سے منہا کرنے کی صراحت نہ کی گئی ہو،تو یہ انکی طرف سے تبرع شمار ہوگا،لہذا ترکہ سے مذکور رقم منہا کرنا یابڑے بھائی سے اس رقم کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں بلکہ والد مرحوم کا تمام ترکہ بڑے بھائی سمیت سب ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کے والد کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق انکے ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا،کہ مرحوم نے انتقال کے وقت جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال و جائیداد سونا،چاندی،زیورات،نقدی رقم اور ہر قسم کاچھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے،وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف اداکریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کی ایک تہائی(1/3) حصے کی حدتک اس پر عمل کریں،اس کے بعد جوکچھ بچ جائے اس کے کل چونسٹھ (64 ) حصے بنائے جائیں جن میں ہر بیٹے کو چودہ (14) حصے،ہر بیٹی کو سات (7 ) حصے اور بیوہ کو آٹھ (8) حصے دیے جائیں -
کما فی فیض الباری : المتبرع لا یرجع فیما تبرع بہ ، فباب الرجوع لا یمشی فی التبرعات الخ ( ج 4 صـ 58 کتاب الھبۃ باب ھبۃ الواحد للجماعۃ ط : دارالکتب العلمیۃ )۔
و فی تنقیح الحامدیۃ : و فی العمادیۃ من احکام السفل و العلو المتبرع لایرجع بماتبرع بہ علی غیرہ کما لوقضی دین غیرہ بغیر امرہ الخ ( ج 2 صـ 248 کتاب المداینات و مطالبہ ط : حقانیہ) ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2