کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری ساس کا انتقال ہو گیا ہے، اُنکے ورثاء میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں حیات ہیں، جبکہ مرحومہ کے والدین اور شوہر مرحومہ کی زندگی میں ہی انتقال کر چکے تھے۔ آپ رہنمائی فرمائیں کہ مرحومہ کا ترکہ شریعت کے مطابق اُنکے تمام ورثاء کے درمیان کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟
نوٹ: سائل کی ساس مرحومہ کی ملکیت میں ایک مکان تھا جس کو مرحومہ کی حیات میں ہی فروخت کیا گیا، اب اس مکان کی قیمت خریدار جماعت کے پاس ہے، اُنہوں نے کہا ہے کہ آپ کسی دار الافتاء سے فتویٰ لے آئیں، تاکہ اس کے مطابق آپکی رقم آپ کے درمیان تقسیم کی جائے، کل رقم پچھتر لاکھ (7500000) روپے ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں بالترتیب حقوق متقدمہ علی المیراث ( کفن دفن کے متوسط مصارف، واجب الادا ءقرضوں کی ادائیگی اور ایک تہائی (1/3) حصے کی حد تک جائز وصیت پر عمل کرنے) کے بعد اگر یہی رقم یعنی پچھتر لاکھ (7500000) کی رقم بچتی ہو اور ورثاء بھی یہی ہوں تو ایسی صورت میں مرحومہ کے ہر ایک بیٹے کو سولہ لاکھ چھیاسٹھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ روپے، چھ سو چھیاسٹھ پیسے (1666666.666)، جبکہ ہر ایک بیٹی کو آٹھ لاکھ تینتیس ہزار تین سو تینتیس روپے، تینتیس پیسے (833333.33)دیے جائیں۔