کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے،بوقتِ انتقال ان کے ورثاء میں ایک بیوہ ،چار بیٹے ،اور دو بیٹیاں موجود تھیں، دادا ،دادی کا پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا ،
پھر بڑے بھائی محمد نواز کا انتقال ہوا ،اس کےورثاء میں ایک بیوہ ،چار بیٹے اور تین بیٹیاں اور والدہ موجود ہیں ،اس کے بعد دوسرے بھائی محمد اشتیاق کا انتقال ہوا، ان کے ورثاء میں بیوہ ،دو بیٹے ،اورچار بیٹیاں اور والدہ موجود ہیں ،
اب معلوم کرنا ہے کہ والد مرحوم کا جائیداد مذکور ورثاء میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائیگا ۔
سائل کے والدِ مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے،اس میں سے بالترتیب حقوقِ متقدمہ علی المیراث(کفن دفن کے متوسط مصارف ، واجب الادا قرضوں اور حق ِ مہر کی ادائیگی ، اور بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)حصے کی حد تک جائز وصیت پر عمل ) کے بعد جو کچھ بچ جائے ، اس کے کل (84480)حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو (15488)حصہ،ہر بیٹے کو (14784)،ہربیٹی کو (7392) حصے، مرحوم کی ہر بہو کو (1848)، مرحوم کے ہر پوتے(مرحوم محمد نواز کے ہر بیٹے کو ) (1904)،ہر پوتی کو (952)،جبکہ مرحوم کے ہر پوتے (مرحوم محمد اشتیاق کے ہر بیٹے کو)(2618) ،ہر پوتی کو(1309)حصے دیے جائیں -