السلام علیکم !جناب مفتی صاحب گذارش یہ ہے کہ میرے والد صاحب "سید ۔۔۔۔۔ جعفری "جوکہ پچھلے سال 13/5/22کو انتقال ہوگیا جوکہ گورنمنٹ آفسر تھا B.P.S کے ملازم تھے ،ورثاء میں انہوں نے ایک بیٹا (یعنی کہ مسمی "سید ۔۔۔۔۔ "ایک بیٹی اور بیوہ ہم تین افراد چھوڑے میری سگی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا جس کے بعد میرے والد نے دوسری شادی کی دوسری بیوی سے کوئی اولاد نہیں ہوئی اب التجایہ ہے کہ گورنمنٹ کی طرف سے ملنے والی گریجویٹی، G.Pفنڈاور انشورنس کی رقم میں ہمارا کتنا حصہ بنتا ہے ؟یعنی اولاد کا اور بیوہ کا گورنمنٹ ہم سے باربار سائن کروارہی ہے توہمارا حصہ بنتاہوگا۔
سائل کے والدِ مرحوم کی وفات کے بعد ادارے کی طرف سے پراویڈنٹ فنڈ (GP.fund)کے نام سے جو رقم دی جارہی ہے یہ سائل کے والدِ مرحوم کا ترکہ ہے ، جوکہ دیگر ترکے کے طرح مرحوم کے تما م ورثاء (بیوہ ،بیٹے ،اوربیٹی ) کی درمیان حسب حصص شرعی تقسیم ہوگا، البتہ یہ پراویڈنٹ فنڈ اگر اختیاری ہو ،تو اسمیں سائل کے ولدِ مرحوم کی تنخواہ سے کاٹی گئی اور ادارے کی طرف سے ملائی جانے والی رقم کے علاوہ سود کے نام سے ملنے والی وہ تیسری رقم اپنے استعمال میں لانے کے بجائے صدقہ کردینا چاہیئے ، اسی طرح ”گروپ انشورنس“ کی رقم میں سے جتنی رقم سائل کے والدِ مرحوم نے پریمیم کی صورت میں جمع کرائی ہےوہ تو مرحوم کا ترکہ شمار ہوگاجوکہ تمام ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم ہوگا،البتہ اگر ورثاء براہ راست انشورنس کمپنی سے یہ رقم وصول کررہے ہوں توایسی صورت میں جمع شدہ رقم کے علاوہ جواضافی رقم کمپنی کی طرف سے ملے گی اس کو اپنے استعمال میں لانے کے بجائے صدقہ کرناچاہیئے،جبکہ سائل کے والدِ مرحوم کے ورثاء کو گریجویٹی فنڈ کے نام سے جورقم ملنے والی ہے وہ مرحوم کا ترکہ نہیں بلکہ یہ ادارہ کی طرف سے مرحوم کے ورثاء کیساتھ تبرع اوراحسان ہے ،چنانچہ یہ رقم اگر بغیر تعین کے ورثاء کو دی جائے تو مرحوم کے ورثاء اس میں برابر کے شریک ہونگے البتہ اگر ادارہ اپنے ضابطہ کے مطابق کسی فرد کونامزد کرکے رقم اسے دیدے تواس رقم کا حقدار وہی ہوگا،دیگر ورثاء کا اسمیں کوئی حق نہ ہوگا۔
کمافی بدائع الصنائع : لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «- عليه الصلاة والسلام - من ترك مالا أو حقا فهو لورثته» و لم يوجد شيء من ذلك فلا يورث و لا يجري فيه التداخل ؛ لما ذكرنا ، والله - سبحانه وتعالى – أعلم . (7/57)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2