بخدمت جناب علماءِکرام صاحبان
اس مسئلہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں کہ گاؤں میں ہمارا ایک گھر تھا جو بڑے بھائی کی کمائی سے خریدا گیا تھا ،والد صاحب کی وفات کے بعد بھائیوں نے کہا کہ بٹوارہ کرتے ہیں،تاکہ سب کو اپنا اپنا حصہ مل جائے،ہم 6 بھائی اور پانچ بہنیں ہیں،جس بھائی کی کمائی سے گھر خریدا گیا تھا اور بنایا گیا تھا تو انہوں نے ایک مفتی صاحب سے معلوم کیا کہ حضرت یہ گھر خالص میری کمائی سے خریدا گیا اور بنایا گیا تھا تو اس میں بہنوں کا حصہ ہے یا نہیں ؟تو مفتی صاحب نے کہا کہ باپ کی کمائی میں بہنوں کا حصہ ہوتا ہے بھائیوں کی کمائی میں نہیں ،لہذا اس میں بہنوں کا حصہ نہیں ہے ,تو گھر 6 بھائیوں میں تقسیم ہوگیا , تو معلوم یہ کرنا تھا کہ اس جائیداد میں بہنوں کا حصہ شرعی اعتبار سے ہے کہ نہیں ؟اور اگر ہے تو کس وقت کے حساب سے ہوگا ؟ کیونکہ بٹوارہ آج سے 15/ 16 سال پہلے ہوچکا ہے،اور جائیداد کی قیمت اس وقت کچھ اور تھی اور ابھی کچھ اور ہے؟
نوٹ: بڑے بھائی کمائی کرتے تھے،اور اپنی کمائی لاکر والد کو دیا کرتے تھے اور والد صاحب نے ہی اپنی زندگی میں یہ مکان بنایا تھا۔
سوال میں ذکرکردہ وضاحتی نوٹ کے مطابق جب سائل کے مذکور بھائی گھر کے اخراجات کیلئے والد مرحوم کو مالکانہ طور پر پیسے دیتے تھےاور مذکور رقم بھی قرض کی صراحت کے بغیر مالکانہ طور پر دی تھی تو والد اس رقم کے مالک بن چکے تھے،چنانچہ والد مرحوم نے اپنی زندگی میں جو گھر خریدا ہے , شرعاً وہ والد مرحوم کی ملکیت شمار ہوگا،اور اب والد کے انتقال کر جانے کی صورت میں مذکور گھر بھی دیگر ترکہ کی طرح تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا، چنانچہ مذکور گھر کی تقسیم میں چونکہ بہنوں کو شامل نہیں کیاگیا ،لہذا یہ تقسیم شرعاً درست نہیں ہوئی،بلکہ ازسرنو مذکور مکان تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا،جبکہ بوقتِ ضرورت ورثاء کی مکمل تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ جمع کرادیں،ان شاءاللہ غور وفکر کے بعد حکم شرعی سے آگا کردیا جائیگا۔
کمافی الدرالمختار:(و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها و إن شاغلا لا اھ (5/690)۔
و فی ردالمحتار: لما في القنية : الأب و ابنه يكتسبان في صنعة واحدة و لم يكن لهما شيء فالكسب کله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له اھ(4/325)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2