کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ میں کہ میرے نانا کا انتقال ہوا ہے ، انکے ورثاء میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں ، ان میں سے میری والدہ کا انتقال بھی میرے نانا کے انتقال کے بعد ہو گیا ہے ، میں ان کا اکلوتا بیٹا ہوں ، میرے نانا کا ایک مکان جو ”160 گز “ کا ہے ، میرے بڑےماموں اس مکان کو ورثاء کے درمیان تقسیم کرنا چاہتے ہیں ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس مکان کی شرعی تقسیم کس طرح ہوگی ؟ آیا اس مکان میں میر ا حصہ ہو گا یا نہیں ؟
نوٹ : نانا مرحوم کا انتقال غالباً 1998ء میں ہوا ، اسکے بعد 2002ء میں نانی کا انتقال ہوا ، دونوں کے انتقال کے درمیان کسی اور کا انتقال نہیں ہوا ، اسکے بعد میری والدہ کا انتقال ہوا ، جبکہ آج سے بتیس سال قبل میری والدہ مرحومہ کو والد صاحب نے طلاق دے دی تھی ، اور میں اور میری والدہ مرحومہ نانا کے گھر میں رہتے تھے ۔
سائل کے نانا ، نانی مرحومین کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اسکے مذکور ورثاء میں اسطرح تقسیم کیا جائے گا کہ مرحومین نے بوقتِ انتقال اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سون ، چاندی ، زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو تو اس کی ادائیگی کریں ، اُس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(3/1) حصے کی حد تک اُس پر عمل کریں ، اُس کے بعد جو کچھ بچ جائے اسکے کل سات(7) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحومین کے ہر ایک بیٹے کو دو(2)حصے ،ہر ایک بیٹی اور نواسے (سائل)کو ایک ایک(1) حصہ دیا جائے ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0