میری والدہ کے تین بیٹے تھے جس میں سے ایک ان کی حیات میں ہی وفات پاگیا تھا ، اب کیا میرے مرحوم بھائی کے بچوں کو ان کی دادی کی وراثت کا حصہ ملے گا ؟
واضح ہو کہ جس بیٹے یا بیٹی کا انتقال اپنے والدین کی زندگی میں ہو جائے ، تو اس کا یا اس کی اولاد کا اس کے والدین مرحومین کی میراث میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوتا اور نہ ہی انہیں ترکہ میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہوتا ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کی والدہ کا انتقال ہو چکا ہو تو مر حومہ کےجس بیٹے کا انتقال مرحومہ کی زندگی میں ہوا ہے ، اس کی اولاد کا مرحومہ دادی کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ، اور نہ ہی وہ دیگر ورثاء سے اس میں حصہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں ، البتہ اگر مرحومہ کے دیگر ورثا ء اپنی مرضی سے انہیں کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے ، اور باعث اجر و ثواب بھی ہے ، مگر ایسا کرنا شرعاً ان پر لازم نہیں ۔
قال الله تعالى : لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا، وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا اھ (النساء آیۃ: 8،7)۔
و فی التفسیر الکبیر تحت قولہ تعالیٰ : ( للرجال نصیب مما ترک الوالدان و الاقربون الآیۃ ) انہ تعالیٰ قال فی آخر الآیۃ ( نصیبا مفروضا ) ای نصیباً مقدراً ، و بالاجماع لیس لذوی الارحام نصیب مقدر ، فثبت انھم لیسوا داخلین فی ھذہ الایۃ الخ ( سورۃ النساء الایۃ : ج 7صــــ 158 ط : دار الکتب ) ۔
و فیہ ایضا : ( و اذا حضر القسمۃ اولو القربیٰ الآیۃ) ان الذین لا یرثون (الی قولہ ) انما قدم الیتامی علی المساکین لان الضعف الیتامی اکثر ، و حاجتھم اشد ، فکان وضع الصدقات فیھم افضل و اعظم فی الاجر الخ ( سورۃ نساء : آیۃ : 8 ج 5 صـــ 160 ط : دار الکتب) ۔
وفي رد المحتار : تحت ( قوله : هي علم بأصول الغ) واركانه : ثلاثة وارث ومورث و موروث، وشروطه : ثلاثه مورث موروث حقيقة أو حكماً لمفقود أو تقديراً لجنين فيه غرة وجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديراً کالحمل والعلم بجہۃ ارثه الخ (كتاب الفرائض ، ج:6 ص:758 ط: سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2