السلام علیکم ، مفتی صاحب ! وراثت کے مسئلہ میں رہنمائی در کا ہے، ایک مکان پانچ افراد ، یعنی (دو) بہنوں اور (تین ) بھائیوں کی مشترکہ پراپرٹی ہے ،دو بہنیں اور ایک بھائی (جوکہ تینوں غیر شادی شدہ تھے ) وفات پا چکے ہیں ، باقی دو بھائی یہ چاہتے ہیں کہ اب اس مکان کو بیچ دیا جائے ، سوال یہ ہے کہ وفات پا جانے والے بہن بھائیوں کے حصوں کے بقدر جو قیمت وصول کی جائے گی ، اس کی تقسیم شریعت کے اعتبار سے کس طرح کی جائے ؟ ان بہن بھائیوں کے علاوہ ایک بھائی اور ہے جوالحمدللہ حیات ہے ، وفات پا جانے والے بہن بھائیوں کے حصوں کے بقدر جو قیمت وصول کی جائے گی اس میں اس بھائی کے شرعی حق کی بھی وضاحت فرماد یجئے ۔
نوٹ : والدین کا انتقال ہو چکا ہے ۔
صورت مسئولہ میں مذکور وفات پاجانے والی دو بہنیں اور ایک بھائی چونکہ غیر شادی شدہ تھے ، اور والدین کا بھی انتقال ہو چکا ہے ، لہذا ان کا شرعی حصہ موجود ورثاء کے درمیان حسب حصص شرعی تقسیم ہوگا ، چنانچہ مرحومین کا ترکہ موجود ورثاء ( تینوں حقیقی بھائیوں ) کے درمیان اصول میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ تینوں مرحومین نے بوقتِ انتقال مذکور پراپرٹی سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو ساز سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب تینوں کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے تینوں مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کرنے کے بعددیکھیں کہ اگر ان کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر تینوں مرحومین میں سے کسی نے کوئی جائز وصیت کی ہو ت اس کے بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ، اس کے کل تین (3) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے تینوں بھائیوں کو ایک ایک حصہ دیدیا جائے -