ہمارے ابو کے نام ایک گھر ہے ، میری بہن کا انتقال ابو سے پہلے ہوگیا تھا ، میری بہن کے 4 بچے ہیں ، کیا بہن کے بچوں کا اس گھر میں حصہ ہوگا ؟ ابو کا انتقال 3 ماہ پہلے ہوا اور بہن کا انتقال 2011 میں ۔
واضح ہو کہ جس بیٹے یا بیٹی کا اپنے والدین کی زندگی میں انتقال ہوجائے ، تو اس کا یا ا س کی اولاد کا اس کے والدین مرحومین کی میراث میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوتا ، اور نہ ہی وہ اس کا مطالبہ کرسکتے ہیں ، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مرحوم کی جس بیٹی کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہوا ہے ، اس کی اولاد کا مرحوم نانا کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ،اور نہ ہی وہ اس کا مطالبہ کرسکتے ہیں ، البتہ اگر مرحوم کے دیگر ورثا اپنی مرضی سے انہیں کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے ، اور باعثِ اجر و ثواب بھی ہے ، مگر ایسا کرنا شرعاً ان پر لازم نہیں۔
و فی التفسیر الکبیر تحت قولہ تعالیٰ : ( للرجال نصیب مما ترک الوالدان و الاقربون الآیۃ ) انہ تعالیٰ قال فی آخر الآیۃ ( نصیبا مفروضا ) ای نصیباً مقدراً ، و بالاجماع لیس لذوی الارحام نصیب مقدر ، فثبت انھم لیسو داخلین فی ھذہ الایۃ الخ ( سورۃ النساء الایۃ : 7 ج صــــ 158 ط : دار الکتب ) ۔
و فیہ ایضا : ( و اذا حضر القسمۃ اولو القربیٰ الآیۃ) ان الذین لا یرثون (الی قولہ ) انما قدم الیالی علی المساکین لان الضعف الیتامی اکثر ، و حاجتھم اشد ، فکان وضع الصدقات فیھم افضل و اعظم فی الاجر الخ ( سورۃ نساء : آیۃ : 8 ج 5 صـــ 159 ط : دار الکتب ) ۔
و فی رد المختار تحت ( قولہ : ھی علم باصول الخ ) و شروطہ : ثلاثۃ : موت مورث حقیقۃ ، او حکما کمفقود او تقدیرا کجنین فیہ غرۃ و وجود وارثہ عند موتہ حیا حقیقۃ او تقدیرا کالحمل الخ ( کتاب الفرائض ج 6 صــــ 758 ط : سعید ) ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0