کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ہمارے والد صاحب مرحوم محمد علی خان ولد حاجی فخرالدین کا انتقال ہوگیا ہے، بوقتِ انتقال اُنکے ورثاء میں پانچ بیٹے اور سات بیٹیاں موجود تھیں، جبکہ دونوں بیویوں اور والدین کا مرحو م سے پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ مرحوم کا ترکہ مذکور ورثاء میں شریعت کے اُصول کےمطابق کس طرح تقسیم کیا جائے گا، اور جس بیٹے کا والد کی حیات میں ہی انتقال ہوگیا ہو اُنکا یا اُنکی بیوہ و بچوں کا حصہ بنتا ہے کہ نہیں ؟ جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں، نیز مرحوم کے ذمہ جو قرضہ ہے اُسکی ادائیگی کس کے ذمہ ہے ؟
واضح ہو کہ مورث کی حیات میں اگر کسی وارث کا انتقال ہو جائے تو دیگر قریبی ورثاء کی موجودگی میں وہ وارث اور اس کے پسماندگان مورث کی وراثت میں شرعاً حصہ دار نہیں ہوتے بلکہ محروم ہو جاتے ہیں،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے جس بھائی کا انتقال والد مرحوم کی حیات میں ہوا ،اسکی اولاد اور بیوہ سائل کے والد مرحوم کے ترکے میں شرعاً حصہ دار نہ ہونگے، تاہم اگر ورثاء اپنی مرضی سے اُنکو کچھ دینا چاہیں تو اسکا انہیں اختیار ہے، البتہ ایسا کرنا اُن پر لازم نہیں۔
کما فی المبسوط للسرخسی : و إنما تحقق الوجوب له عند الموت و لأن المانع صفة الوراثة و لا يعرف ذلك إلا عند الموت؛ لأن صفة الوراثة لا تكون إلا بعد بقاء الوارث حيا بعد موت المورث۔اھ (27/176)۔
اسکے بعد واضح ہوکہ سائل کے والدمرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اُنکے موجودہ ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقت ِانتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الاداء قرض ہو تو اس کی ادائیگی کریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگرمرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں، اسکے بعد جو کچھ بچ جائےاس کے کل سترہ (17) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کے بیٹوں میں سے ہر ایک کو بیٹے کو دو (2) حصے، جبکہ بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو ایک (1) حصہ دیا جائے، جیسا کہ ذیل کے نقشہ سے بھی معلوم ہو رہا ہے، مزید سہولت کیلئے فیصدی حصے بھی لکھ دیے گئے ہیں ملاحظہ فرمائیں!