السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!میرے چاچا نور محمد کا 2005 میں انتقال ہوا تھا ، ان کی دو شادیاں تھیں ، پہلی بیوی سے گیارہ بچے تھے، چھ بیٹے اور پانچ بیٹیاں ، ایک بیٹا 2012 میں وفات پاگیا جو غیر شادی شدہ تھا اور پہلی بیوی بھی 2011 میں وفات پا گئی اور دوسری بیوی جو زندہ ہے ،ان سے چار بچے ہیں، دو بیٹے اوردو بیٹیاں ہے ، ان میں وراثت کی تقسیم کا کیا طریقہ کار ہوگا ؟
وراثت میں 1 فلیٹ ، 1 مکان اور گاؤں میں دو دکانیں ہیں ، ان کی کل مالیت ابھی 2 کروڑ 80 لاکھ ہے ، برائے کرم یہ بھی بتا دیں کہ جو پہلی بیوی انتقال کر گئی ہے ،کیا ان کا بھی وراثت میں حصہ ہو گا ؟
سائل کے چاچا کی پہلی بیوی جب اپنے شوہر ( سائل کے چاچا ) کے انتقال کے و قت حیات تھی ، اس کا انتقال بعد میں ہوا ہے ، تو ایسی صورت میں وہ مرحوم شوہر کے ترکہ میں اپنے حصۂ شرعیہ کی حقدار بن چکی تھی اور اس کے انتقال کے بعد اس کا حصہ اس کے شرعی ورثاء کے درمیان تقسیم ہوگا ، جس کا طریقہ ذیل میں آرہا ہے ۔ کما فی المبسوط : انما تحقق الوجوب لہ عند الموت ولأن المانع صفۃ الوراثۃ و لا یعرف ذلک الا عند الموت لأن صفۃ الوراثۃ لا تکون الا بعد بقاء الوارث حیاً بعد موت المورث الخ ( کتاب الفرائض باب الوصیۃ للوارث ج 27 صـ 176 ط : دار الکتب العلمیۃ )اس کے بعدواضح ہو کہ مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو تو اس کی ادائیگی کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی ( 1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل اکتیس ہزار دوسو اسی ( 31280 ) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے زوجہ کوایک ہزار نوسو پچپن ( 1955 ) حصے اور زوجہ ثانیہ کے ہر ایک بیٹے کودو ہزار تین سو اسی (2380 ) حصے ، اور زوجہ ثانیہ کی ہر بیٹی کوایک ہزار ایک سو نوّے (1190) حصے ، جبکہ زوجہ اول کے ہر ایک بیٹے کودوہزار نو سو اٹھاون ( 2958 ) حصے اور زوجہ اول کے ہر ایک بیٹی کوایک ہزار چار سو اناسی (1479 ) حصے دیے جائیں -